المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء، عن ابن عباس باب: عطاء کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ وَهُوَ حَرَامٌ، كَانَ الَّذِي زَوَّجَهُ إِيَّاهَا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا، فَأَتَاهُ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَبِي قَيْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي يَوْمِ الثَّالِثِ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ قَدْ وَكَّلَتْهُ بِإِخْرَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَقَالُوا: إِنَّهُ قَدِ انْقَضَى أَجَلُكَ فَاخْرُجْ عَنَّا، فَقَالَ لَهُمْ: «وَمَا عَلَيْكُمْ لَوْ تَرَكْتُمُونِي، فَأَعْرَسْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ وَصَنَعْنَا لَكُمْ طَعَامًا فحضرتموهُ» فَقَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي طَعَامِكَ فَاخْرُجْ عَنَّا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مجاہد ابوالحجاج رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اسی سفر میں سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے، اور جس نے انہیں آپ ﷺ کے نکاح میں دیا وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تین دن قیام پذیر رہے، پھر تیسرے دن حویطب بن عبدالعزیٰ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس آیا، قریش نے اسی کو نبی کریم ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے لیے مقرر کیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کی مدت ختم ہو چکی ہے، ہمارے پاس سے نکل جائیے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارا کیا نقصان ہے اگر تم مجھے چھوڑ دو، میں تمہارے درمیان اپنی شادی کر لوں اور تمہارے لیے کھانا تیار کروں اور تم اس میں شریک ہو جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ہمیں تمہارے کھانے کی کوئی حاجت نہیں، ہمارے پاس سے نکل جاؤ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ روانہ ہو گئے۔