حدیث نمبر: 11349
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى} [الأنفال: ٦٧] فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] يَعْنِي: غَنَائِمَ بَدْرٍ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّهَا لَهُمْ، يَقُولُ: «لَوْلَا أَنِّي لَا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمُ إِلَيْهِ» {لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨]
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے قیدی ہوں“ [سورۃ الانفال: 67] پھر یہاں تک تلاوت کی: ”بڑا عذاب“ [سورۃ الانفال: 68] - یعنی بدر کی غنیمتیں، اس سے پہلے کہ اللہ انہیں ان کے لیے حلال کرتا، فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک اسے پہلے سے آگاہ نہ کر دوں“ تو ”جو کچھ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ [سورۃ الانفال: 68]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11349
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 171، حدیث 11397