حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلْقَمَةَ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللهِ؟ قَالَ: «كَانَ يَسْمَعُ صَوْتَهُ أَهْلُ الدَّارِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے پوچھا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: ”ان کی آواز گھر والے سنتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَمْ يُخَافِتْ مَنْ أَسْمَعَ نَفْسَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے اپنے آپ کو اپنی آواز سنا دی وہ آہستہ پڑھنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَمْ يُخَافِتْ مَنْ أَسْمَعَ أُذُنَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے اپنے دونوں کانوں کو سنا دیا وہ آہستہ پڑھنے والا نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَيَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلْقَمَةَ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللهِ، مِنَ اللَّيْلِ - وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدَهُ؟ قَالَ: «كَانَ يُسْمِعُ آلَ عُتْبَةَ أَخِيهِ، وَهُمْ فِي حُجْرَةٍ بَيْنَ يَدَيْهِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھا - وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزارا کرتے تھے - کہ رات کو ان کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ”وہ اپنے بھائی عتبہ کے گھر والوں کو سنا دیتے تھے، جو ان کے سامنے ایک کمرے میں ہوتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فَسَأَلْنَاهُ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقْرَأُ؟ قَالَ: «كَانَ يُسْمِعُ آلَ عُتْبَةَ، وَهُمْ فِي حُجْرَةٍ بَيْنَ يَدَيْهِ»
ترجمہ
(راوی) کہتے ہیں: ہم نے ان سے پوچھا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیسے قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”وہ آلِ عتبہ کو سنا دیتے تھے، جو ان کے سامنے ایک کمرے میں ہوتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهُ، وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ: مَتَى كَانَ عَبْدُ اللهِ يُوتِرُ؟ قَالَ: «كَانَ يُوتِرُ حِينَ يَبْقَى عَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ مِثْلُ مَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ حِينَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے پوچھا - وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزارا کرتے تھے - کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”وہ اس وقت وتر پڑھتے جب رات کا اتنا حصہ باقی رہ جاتا جتنا مغرب کی نماز کے وقت سے گزر چکا ہوتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: «بِتُّ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةً فَقَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَكَانَ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ فِي مَسْجِدِ حَيِّهِ، يُرَتِّلُ، وَلَا يُرَجِّعُ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ، وَلَا يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ مِنَ الْغَلَسِ إِلَّا كَمَا بَيْنَ الْأَذَانِ لِلْمَغْرِبِ إِلَى انْصِرَافٍ مِنْهَا، ثُمَّ أَوْتَرَ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے ایک رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزاری، وہ رات کے شروع میں اٹھے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ اپنے محلے کی مسجد کے امام جتنی قرأت کرتے، ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے، آواز میں لے نہیں لاتے، اپنے آس پاس کے لوگوں کو سنا دیتے، اور اپنی آواز بلند نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ ان پر رات کے آخری اندھیرے میں سے اتنا ہی باقی رہ گیا جتنا مغرب کی اذان سے اس کی نماز سے فارغ ہونے تک کا وقفہ ہوتا ہے، پھر انہوں نے وتر پڑھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَلْقَمَةَ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يُوتِرُ إِذَا بَقِيَ مِنَ اللَّيْلِ نَحْوَ مَا ذَهَبَ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ علقمہ نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وتر اس وقت پڑھتے جب رات میں سے اتنا حصہ باقی رہ جاتا جتنا مغرب کی نماز تک گزر چکا ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں کے درمیان ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَأَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں کے درمیان ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَأَبِي حُصَيْنٍ، وَعَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں، یعنی عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وِتْرٌ، مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دونوں نمازوں کے درمیان، یعنی عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان کا وقت وتر کا وقت ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں کے درمیان ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَقَدْ سَمِعْتُهُ يُنَادِي، بِهَا نِدَاءً: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتَمَةَ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ مَتَى أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ»
ترجمہ
اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بلند آواز سے یہ پکارتے سنا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں کے درمیان ہے، یعنی عشاء آخرہ، جسے تم عتمہ کہتے ہو، اور فجر کی نماز کے درمیان، جب بھی تم وتر پڑھو گے وہ اچھا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ» يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ «،» وَكَانَ أَبِي يُوتِرُ قَبْلَ الْفَجْرِ "
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کے بعد وتر پڑھتے تھے، جبکہ میرے والد فجر سے پہلے وتر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا بَالَيْتُ أَنَّ صَلَاةَ الْفَجْرِ أُقِيمَتْ وَأَنَا أُوتِرُ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں اگر فجر کی نماز کھڑی ہو جائے اور میں ابھی وتر پڑھ رہا ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا أُبَالِي أَنْ يُثَوَّبَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَأَنَا فِي وِرْدِي لَمْ أُوتِرْ بَعْدُ»
ترجمہ
عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں اگر فجر کی نماز کے لیے تکبیر دہرائی جائے اور میں ابھی اپنے رات کے وظیفے میں ہوں اور وتر ادا نہ کیا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ»
ترجمہ
ابومیسرہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا اذان کے بعد وتر پڑھا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں، اور اقامت کے بعد بھی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ، كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ فَأَعْلَى»
ترجمہ
ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین یا اس سے زیادہ رکعتوں سے وتر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ، يُوتِرُ بِثَلَاثٍ فَأَعْلَى»
ترجمہ
ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین یا اس سے زیادہ رکعتوں سے وتر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «وِتْرُ اللَّيْلِ كَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا»
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کا وتر دن کے وتر یعنی مغرب کی نماز کی طرح تین رکعت کا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْوِتْرُ ثَلَاثٌ كَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر تین رکعت کا ہے، جیسے دن کا وتر یعنی مغرب کی نماز۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الْوِتْرُ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ كَصَلَاةِ الْمَغْرِبِ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وتر مغرب کی نماز کی طرح تین رکعت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّ سَعْدًا يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، قَالَ: «مَا أَجْزَأَتْ رَكْعَةٌ قَطُّ»
ترجمہ
حصین بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ایک رکعت سے وتر پڑھتے ہیں، تو فرمایا: ”ایک رکعت کبھی کافی نہیں ہوئی۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: «تُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ؟» فَقَالَ سَعْدٌ: أَوَلَيْسَ إِنَّمَا الْوِتْرُ وَاحِدَةٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «بَلَى، وَلَكِنْ ثَلَاثٌ أَفْضَلُ» ، فَقَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا، فَغَضِبَ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «أَتَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ أُوتِرَ بِرَكْعَةٍ، وَأَنْتَ تُوَرِّثُ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ، أَفَلَا تُوَرِّثُ لِحَوَّاءَ امْرَأَةِ آدَمَ؟» أَخْبَرَنِيهِ يَحْيَى، عَنِ الثَّوْرِيِّ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم ایک رکعت سے وتر پڑھتے ہو؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وتر ایک ہی رکعت نہیں ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن تین رکعتیں افضل ہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ مجھ پر اس بات پر غصہ کرتے ہیں کہ میں ایک رکعت سے وتر پڑھتا ہوں، حالانکہ آپ تین دادیوں نانیوں کو میراث دیتے ہیں؟ کیا پھر آدم علیہ السلام کی بیوی حوا کو بھی میراث نہیں دیتے؟“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «سَمَرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَامَا يَتَحَدَّثَانِ حَتَّى رَأَيَا تَبَاشِيرَ الْفَجْرِ» فَأَوْتَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِرَكْعَةٍ "
ترجمہ
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے ہاں رات گئے تک باتیں کرتے رہے، پھر وہاں سے نکلے اور کھڑے ہو کر باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ فجر کی روشنی نمودار ہونے لگی، تو ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک رکعت سے وتر پڑھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقْرَأُ فِي آخِرِ رَكْعَةٍ مِنَ الْوِتْرِ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرَّكْعَةِ "
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وتر کی آخری رکعت میں ”قل ہو اللہ احد“ پڑھتے، پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنِ النَّخَعِيِّ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقْنُتُ السَّنَةَ كُلَّهَا فِي الْوِتْرِ»
ترجمہ
نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سارا سال وتر میں قنوت پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ: «إِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ نَامَ فَقَامَ فَلْيَنْقُضْ وِتْرَهُ، وَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ لْيُوتِرْ بَعْدَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی ساتھی بیان کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی وتر پڑھ چکے، پھر سو جائے اور رات کو اٹھے تو اپنا وتر توڑ دے، اور اس میں ایک رکعت اور ملا لے، پھر اس کے بعد دوبارہ وتر پڑھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نمازِ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، «أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ»
ترجمہ
علقمہ اور اسود رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نمازِ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَإِذَا قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نمازِ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے، اور جب وتر میں قنوت پڑھتے تو رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نمازِ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: «كَانَ يَقْنُتُ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے، اور نمازِ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا الْحَجَّاجُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بَعَثَ إِلَى حُذَيْفَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُهُمَا عَنِ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الْفَجْرِ فَقَامَ ابْنُ مَسْعُودٍ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَهُمْ "
ترجمہ
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی طرف (کسی کو) بھیجا کہ ان سے عید کے دن کی نماز کے بارے میں پوچھے۔ اتنے میں فجر کی نماز کھڑی ہو گئی تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر ان کے ساتھ (نماز میں) شامل ہو گئے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ يُصَلَّى الصُّبْحُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہیں یہ بات گراں گزرتی تھی کہ فجر طلوع ہونے سے لے کر نماز صبح ادا ہونے تک کسی کو بات کرتے سنیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: «كَانَ يَكْرَهُ إِذَا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ أَنْ يَتَكَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بات کرنا ناپسند کرتے تھے۔
…