حدیث نمبر: 9380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَقَدْ سَمِعْتُهُ يُنَادِي، بِهَا نِدَاءً: «الْوِتْرُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتَمَةَ، وَصَلَاةِ الْفَجْرِ مَتَى أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ»
ترجمہ

اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بلند آواز سے یہ پکارتے سنا: ”وتر کا وقت دونوں نمازوں کے درمیان ہے، یعنی عشاء آخرہ، جسے تم عتمہ کہتے ہو، اور فجر کی نماز کے درمیان، جب بھی تم وتر پڑھو گے وہ اچھا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9380
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 281، حدیث 9412