المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: «تُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ؟» فَقَالَ سَعْدٌ: أَوَلَيْسَ إِنَّمَا الْوِتْرُ وَاحِدَةٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «بَلَى، وَلَكِنْ ثَلَاثٌ أَفْضَلُ» ، فَقَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا، فَغَضِبَ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: «أَتَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ أُوتِرَ بِرَكْعَةٍ، وَأَنْتَ تُوَرِّثُ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ، أَفَلَا تُوَرِّثُ لِحَوَّاءَ امْرَأَةِ آدَمَ؟» أَخْبَرَنِيهِ يَحْيَى، عَنِ الثَّوْرِيِّسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم ایک رکعت سے وتر پڑھتے ہو؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وتر ایک ہی رکعت نہیں ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن تین رکعتیں افضل ہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ مجھ پر اس بات پر غصہ کرتے ہیں کہ میں ایک رکعت سے وتر پڑھتا ہوں، حالانکہ آپ تین دادیوں نانیوں کو میراث دیتے ہیں؟ کیا پھر آدم علیہ السلام کی بیوی حوا کو بھی میراث نہیں دیتے؟“