حدیث نمبر: 9372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: «بِتُّ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةً فَقَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَكَانَ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ فِي مَسْجِدِ حَيِّهِ، يُرَتِّلُ، وَلَا يُرَجِّعُ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ، وَلَا يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ مِنَ الْغَلَسِ إِلَّا كَمَا بَيْنَ الْأَذَانِ لِلْمَغْرِبِ إِلَى انْصِرَافٍ مِنْهَا، ثُمَّ أَوْتَرَ»
ترجمہ

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے ایک رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزاری، وہ رات کے شروع میں اٹھے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ اپنے محلے کی مسجد کے امام جتنی قرأت کرتے، ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے، آواز میں لے نہیں لاتے، اپنے آس پاس کے لوگوں کو سنا دیتے، اور اپنی آواز بلند نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ ان پر رات کے آخری اندھیرے میں سے اتنا ہی باقی رہ گیا جتنا مغرب کی اذان سے اس کی نماز سے فارغ ہونے تک کا وقفہ ہوتا ہے، پھر انہوں نے وتر پڑھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9372
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 280، حدیث 9404