حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَدِمَ، وَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَوَقَعَ بِأَهْلِهِ، فَلَقِيَ رَجُلًا فَذَكَّرَهُ يَمِينَهُ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ، «فَسَأَلَهُ فَأَحْلَفَهُ بِاللهِ مَا عَلِمْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَحْلَفَهَا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا عَلِمْتُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا»
ترجمہ
وبرہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے ایک چچازاد بھائی نے اپنی بیوی سے دس دن کے لیے ایلاء (قسم کھا کر دوری) کی، پھر وہ سفر پر نکل گئے اور واپس آئے تو چار مہینے گزر چکے تھے، پھر انہوں نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی۔ اس دوران ایک آدمی سے ملاقات ہوئی جس نے انہیں ان کی قسم یاد دلائی، تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے پوچھا اور اللہ کی قسم دے کر کہلوایا: مجھے علم نہ تھا، پھر ان کی بیوی کے پاس آدمی بھیجا اور اسے بھی اللہ عزوجل کی قسم دے کر کہلوایا: مجھے علم نہ تھا۔ پھر انہیں حکم دیا کہ وہ نئے سرے سے اس سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، وَطَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَا: جَاءَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا، وَلَمْ يُسَمِّ شَيْئًا؟ قَالَ: «يَعْتِقُ نَسَمَةً»
ترجمہ
حکم اور طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں: معقل بن سنان سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو نذر مانے مگر نذر میں کسی چیز کا تعین نہ کرے، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ ایک غلام آزاد کرے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: «أُتِيَ عَبْدُ اللهِ، بِجَارِيَةٍ سَرَقَتْ، وَلَمْ تَحِضْ فَلَمْ يَقْطَعْهَا»
ترجمہ
قاسم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائی گئی جس نے چوری کی تھی اور ابھی اسے حیض نہیں آیا تھا، تو انہوں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کوئی قسم کھائے اور ”ان شاء اللہ“ کہہ دے تو اس نے استثنا کر لیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللهِ، مِنِ امْرَأَتِهِ - أَوْ مِنِ امْرَأَةٍ لَهُ - وَلِيدَةً وَشَرَطَ لَهَا، وَاشْتَرَطَتْ خِدْمَتَهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ ثَنَوِيَّةٌ لِغَيْرِكَ»
ترجمہ
قاسم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے - یا اپنی ایک بیوی سے - ایک لونڈی خریدی اور اس کے لیے شرط لگائی، اور اس بیوی نے اس کی خدمت اپنے لیے شرط رکھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس چیز میں کسی اور کے لیے استثناء ہو وہ تمہارا مکمل مال نہیں بنتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَبَّرَ عَبْدُ اللهِ، حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ هَكَذَا» وَرَفَعَ مِسْعَرٌ يَدَيْهِ فَوْقَ صَدْرِهِ
ترجمہ
ابراہیم (نخعی) بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی اور اس طرح کیا۔ (راوی مسعر نے یہ بیان کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ سینے سے اوپر تک اٹھا کر دکھائے۔)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ الْعَنْبَرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ رَجُلٍ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَجْلِسْ»
ترجمہ
ایک آدمی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے اور (تشہد کے لیے) نہیں بیٹھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ عَمِّي أَنْكَحَنِي وَلِيدَتَهُ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ لِي، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَرِقَّهُمْ، قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ»
ترجمہ
مستورد بن احنف بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میرے چچا نے مجھے اپنی لونڈی سے نکاح کرایا تھا، اور اس نے میرے ہاں اولاد بھی جنی ہے، اب وہ چاہتا ہے کہ انہیں غلام بنا لے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے یہ حق نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: إِنَّ عَمَّهُ زَوَّجَهُ وَلِيدَتَهُ، وَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْرِقَ وَلَدَهُ، قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ»
ترجمہ
مستورد بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میرے چچا نے مجھے اپنی لونڈی سے نکاح کرایا ہے، اور وہ اب میری اولاد کو (غلام بنا کر) چھیننا چاہتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے یہ حق نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: «لَبَّى عَبْدُ اللهِ، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»
ترجمہ
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ کو کنکریاں مار دیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، أَنَّهُ: سَمِعَ عَبْدَ اللهِ، " يَقُولُ وَهُوَ رَاكِعٌ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ "
ترجمہ
عبداللہ بن زیاد اسدی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو رکوع کی حالت میں یہ کہتے سنا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ (گناہوں سے بچنا اور نیکی کی توفیق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ لِرَجُلٍ: «إِذَا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْخَيْرَ فَلَا تَسْأَلْ وَبِيَدِكَ حَجَرٌ»
ترجمہ
ایک آدمی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے فرمایا: ”جب تم اپنے رب سے خیر مانگو تو ایسے حال میں نہ مانگو کہ تمہارے ہاتھ میں پتھر ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَصْبِحُوا مُتَدَهِّنِينَ صُيَّامًا»
ترجمہ
ابو حصین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”روزہ رکھتے ہوئے بھی صبح تیل لگا کر کرو۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَرَادَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا الْحَجَّ وَأَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجَّتِهَا عُمْرَةً، فَسَأَلَتْ عَبْدَ اللهِ، فَقَالَ: " مَا أَجِدُ هَذِهِ إِلَّا أَشْهُرُ الْحَجِّ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَشْهُرٍ مَعْلُومَاتٍ} [البقرة: ١٩٧] "
ترجمہ
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں: ہم میں سے ایک عورت نے حج کا ارادہ کیا اور اپنے حج کے ساتھ عمرہ بھی ملانا چاہا، تو اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: ”میں تو اسے حج کے مہینوں ہی میں پاتا ہوں، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”معلوم مہینے“ [سورۃ البقرہ: 197]۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: " رَجَعَ قَوْلُهُ إِلَى غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ فِي قَوْلِهِ: {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: ٦] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے آیت ”اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک“ [سورۃ المائدہ: 6] کے بارے میں پاؤں دھونے کی طرف لوٹ آئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَيَنْتَهِكَنَّ رَجُلٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الْوُضُوءِ أَوْ لَتَنْتَهِكُهُ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آدمی وضو میں اپنی انگلیوں کے درمیان پانی ضرور پہنچائے، ورنہ آگ اس تک ضرور پہنچے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا أَبُو مِسْكِينٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَيَنْتَهِكَنَّ رَجُلٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِالطَّهُورِ أَوْ لَتَنْتَهِكُهُ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آدمی اپنی انگلیوں کے درمیان طہارت کے پانی سے ضرور رگڑے، ورنہ آگ اس تک ضرور پہنچے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «خَلِّلُوا الْأَصَابِعَ الْخَمْسَ لَا يَحْشُوهَا اللهُ نَارًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنی پانچوں انگلیوں کے درمیان خلال کرو، اللہ انہیں آگ سے نہیں بھرے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، وَإِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: حَكَكْتُ جَسَدِي، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَفْضَيْتُ إِلَى ذَكَرِي، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِي: «اقْطَعْهُ - وَهُوَ يَضْحَكُ - أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ»
ترجمہ
ارقم بن شرحبیل بیان کرتے ہیں: میں نے نماز کی حالت میں اپنا جسم کھجلایا تو میرا ہاتھ میری شرمگاہ تک پہنچ گیا، میں نے یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے ہنستے ہوئے فرمایا: ”کیا اسے کاٹ ڈالو؟ تم اسے اپنے آپ سے الگ کہاں کرو گے، یہ تو تمہارے جسم کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ: «هَلْ هُوَ إِلَّا كَطَرَفِ أَنْفِكَ؟»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں پوچھا گیا، اور میں سن رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا یہ تمہاری ناک کی نوک کی طرح تمہارے جسم کا حصہ نہیں ہے؟“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَرْنَبَتِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں نے اسے چھوا ہے یا اپنی ناک کی نوک کو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ رُكْبَتِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں نے اسے چھوا ہے یا اپنے گھٹنے کو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ خَمْسَةَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ قَالَ بَعْضُهُمْ: «مَا أُبَالِي ذَكَرِي مَسِسْتُ أَوْ أَرْنَبَتِي» ، وَقَالَ الْآخَرُ: «أُذُنِي» ، وَقَالَ الْآخَرُ: «فَخِذِي» ، وَقَالَ: «الْآخَرُ رُكْبَتِي»
ترجمہ
حسن (بصری) پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا ابن مسعود، سیدنا حذیفہ، سیدنا عمران بن حصین اور ایک اور صحابی رضی اللہ عنہم۔ ان میں سے کسی نے کہا: ”مجھے پروا نہیں کہ میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا اپنی ناک کی نوک کو۔“ اور دوسرے نے کہا: ”میرا کان۔“ اور دوسرے نے کہا: ”میری ران۔“ اور ایک اور نے کہا: ”میرا گھٹنا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: «صَلَّى ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَلَى بَطْنِهِ فَرْثٌ وَدَمٌ مِنْ جَزُورٍ نَحَرَهَا، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
یحییٰ بن جزار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی جبکہ ان کے پیٹ پر ایک ذبح کیے گئے اونٹ کا گوبر اور خون لگا ہوا تھا، اور انہوں نے وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «نَحَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ جَزُورًا فَتَلَطَّخَ بِدَمِهَا، وَفَرْثِهَا وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ ذبح کیا تو اس کے خون اور گوبر سے آلودہ ہو گئے، پھر نماز کھڑی ہو گئی تو انہوں نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي رَبَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «فِي الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا»
ترجمہ
رباح بن حارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مردار کی کھال کا دباغت کرنا ہی اس کا (پاک کرنا) ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَأَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ الْكَلِمَةِ الْخَبِيثَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ الطَّعَامِ الطَّيِّبِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے نزدیک برے کلمے سے (توبہ کرکے) وضو کرنا، اچھے کھانے سے وضو کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَأَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ الْكَلِمَةِ الْخَبِيثَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَوَضَّأَ مِنَ اللُّقْمَةِ الطَّيِّبَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے نزدیک برے کلمے سے وضو کرنا، اچھے لقمے سے وضو کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «أَتَوَضَّأُ مِنَ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَوَضَّأَ مِنْ طَعَامٍ طَيِّبٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”برے کلمے سے وضو کرنا میرے نزدیک اچھے کھانے سے وضو کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ، وَالشَّعْبِيَّ، قَالُوا فِي الرَّجُلِ يَنَامُ وَهُوَ جَالِسٌ: «لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور شعبی نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے: ”اس پر وضو نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: " يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُبَاشَرَةِ، وَمِنَ اللَّمْسِ بِيَدِهِ، وَمِنَ الْقُبْلَةِ إِذَا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] هُوَ الْغَمْزُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک آدمی مباشرت سے، ہاتھ سے چھونے سے، اور اپنی بیوی کو بوسہ دینے سے وضو کرے، اور وہ اس آیت: ”یا تم نے عورتوں کو چھو لیا ہو“ [سورۃ النساء: 43] کے بارے میں فرماتے تھے: ”اس سے مراد ہاتھ لگانا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «الْقُبْلَةُ مِنَ اللَّمْسِ، وَمِنْهَا الْوُضُوءُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بوسہ چھونے میں شامل ہے، اور اس سے وضو لازم ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْمُلَامَسَةُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ملامست (چھونا) جماع سے کم درجے کی چیز ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الْمُلَامَسَةُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ جَسَدَ امْرَأَتِهِ بِشَهْوَةٍ فَفِيهِ الْوُضُوءُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ملامست جماع سے کم تر درجے کی چیز ہے، یعنی آدمی کا اپنی بیوی کے جسم کو خواہش کے ساتھ چھونا، اس میں وضو لازم ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَأْخُذُ بِشَعْرَةٍ مِنْ دُبُرِهِ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس اس کی نماز میں آتا ہے اور اس کی دبر کے بال سے پکڑ لیتا ہے، جس سے اسے لگتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، تو وہ نماز سے اس وقت تک نہ پھرے جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيُطِيفُ بِالرَّجُلِ في صَلَاتِهِ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، فَإِذَا أَعْيَاهُ نَفَخَ فِي دُبُرِهِ، فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان آدمی کے گرد اس کی نماز میں چکر لگاتا ہے تاکہ اس کی نماز توڑ دے، جب وہ تھک جاتا ہے تو اس کی دبر میں پھونک مار دیتا ہے، جب تم میں سے کسی کو اس کا احساس ہو تو وہ نماز سے اس وقت تک نہ پھرے جب تک بو نہ محسوس کرے یا آواز نہ سن لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيُطِيفُ بِالرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، فَإِذَا أَعْيَا نَفَخَ فِي دُبُرِهِ لِيُرِيَهُ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان نماز میں آدمی کے گرد چکر لگاتا ہے تاکہ اس کی نماز توڑ دے، جب وہ تھک جاتا ہے تو اس کی دبر میں پھونک مار دیتا ہے تاکہ اسے لگے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، جب اسے اس کا کچھ احساس ہو تو وہ اس وقت تک نہ پھرے جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفُخُ فِي دُبُرِ الرَّجُلِ، إِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان آدمی کی دبر میں پھونک مارتا ہے، جب تم میں سے کسی کو اس کا احساس ہو تو وہ نماز سے اس وقت تک نہ پھرے جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «أَتَيْنَا بِجَفْنَةٍ، وَنَحْنُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ فِي الطَّرِيقِ فَأَكَلَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا، وَجَعَلَ يَدْعُو مَنْ مَرَّ بِهِ، ثُمَّ مَضَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ غَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ صَلَّى»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ لایا گیا، اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے حکم دیا تو وہ راستے میں رکھ دیا گیا، پھر انہوں نے اس میں سے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، اور جو بھی گزرتا اسے بلاتے رہے۔ پھر ہم نماز کی طرف چلے تو انہوں نے صرف اپنی انگلیوں کے سرے دھوئے اور کلی کی، پھر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «أُتِينَا بِقَصْعَةٍ مِنْ بَيْتِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلْنَا، وَمَعَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ فَمَضْمَضَ، وَغَسَلَ أَصَابِعَهُ عِنْدَ الْمَغْرِبِ»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے ہمارے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا، ہم نے کھایا اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ تھے، مغرب کے وقت انہوں نے کلی کی اور اپنی انگلیاں دھوئیں۔
…