حدیث نمبر: 9202
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «أَتَيْنَا بِجَفْنَةٍ، وَنَحْنُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ فِي الطَّرِيقِ فَأَكَلَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا، وَجَعَلَ يَدْعُو مَنْ مَرَّ بِهِ، ثُمَّ مَضَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ غَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ صَلَّى»
ترجمہ

علقمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ لایا گیا، اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے حکم دیا تو وہ راستے میں رکھ دیا گیا، پھر انہوں نے اس میں سے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، اور جو بھی گزرتا اسے بلاتے رہے۔ پھر ہم نماز کی طرف چلے تو انہوں نے صرف اپنی انگلیوں کے سرے دھوئے اور کلی کی، پھر نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9202
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 250، حدیث 9234