حدیث نمبر: 9164
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَدِمَ، وَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَوَقَعَ بِأَهْلِهِ، فَلَقِيَ رَجُلًا فَذَكَّرَهُ يَمِينَهُ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ، «فَسَأَلَهُ فَأَحْلَفَهُ بِاللهِ مَا عَلِمْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَحْلَفَهَا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا عَلِمْتُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا»
ترجمہ

…ان کے ایک چچازاد بھائی نے اپنی بیوی سے دس دن کے لیے ایلاء (قسم کھا کر دوری) کی، پھر وہ سفر پر نکل گئے اور واپس آئے تو چار مہینے گزر چکے تھے، پھر انہوں نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی۔ اس دوران ایک آدمی سے ملاقات ہوئی جس نے انہیں ان کی قسم یاد دلائی، تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے پوچھا اور اللہ کی قسم دے کر کہلوایا: مجھے علم نہ تھا، پھر ان کی بیوی کے پاس آدمی بھیجا اور اسے بھی اللہ عزوجل کی قسم دے کر کہلوایا: مجھے علم نہ تھا۔ پھر انہیں حکم دیا کہ وہ نئے سرے سے اس سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9164
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 244، حدیث 9196