حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَثَلُ الَّذِي يُدِيمُ الصَّلَاةَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَعُ الْبَابَ، وَمَنْ يُدِيمُ قَرْعَ الْبَابِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو نماز کی پابندی کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دروازہ کھٹکھٹاتا رہے، اور جو دروازہ کھٹکھٹاتا رہے قریب ہے کہ اس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّكَ مَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَإِنَّكَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِكِ، وَمَنْ يُكْثِرُ قَرْعَ بَابِ الْمَلِكِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک تم نماز میں ہو تو گویا تم بادشاہ (اللہ) کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہو، اور جو بادشاہ کا دروازہ کثرت سے کھٹکھٹاتا رہے قریب ہے کہ اس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى الْعَلَانِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کی نماز کو دن کی نماز پر وہی فضیلت حاصل ہے جو پوشیدہ صدقے کو ظاہر صدقے پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى الْعَلَانِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کی نماز کو دن کی نماز پر وہی فضیلت حاصل ہے جو پوشیدہ صدقے کو ظاہر صدقے پر حاصل ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «سَيِّدُ الشُّهُورِ رَمَضَانُ، وَسَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مہینوں کا سردار رمضان ہے، اور دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: تَلَا عَبْدُ اللهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ، وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} [إبراهيم: ٤٨] ، قَالَ: «يُجَاءُ بِأَرْضٍ كَأَنَّهَا سَبِيكَةُ فِضَّةٍ لَمْ يُسْفَكْ عَلَيْهَا دَمٌ، وَلَمْ تُعْمَلْ عَلَيْهَا خَطِيئَةٌ، فَأَوَّلُ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ النَّاسِ فِيهِ فِي الدِّمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ”جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین کر دی جائے گی، اور آسمان بھی، اور سب اللہ واحد و غالب کے سامنے حاضر ہوں گے“ [سورۃ ابراہیم: 48]۔ پھر فرمایا: ”ایک ایسی زمین لائی جائے گی گویا وہ چاندی کی ڈلی ہے، جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا اور نہ کوئی گناہ کیا گیا، اور لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جس معاملے کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون (کے مقدمات) ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الْأَوَّاهُ الرَّحِيمُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اَوّاہ کا مطلب ہے نہایت رحم دل۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ} [التوبة: ١١٤] قَالَ: «الْأَوَّاهُ الرَّحِيمُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بیشک ابراہیم بڑے نرم دل، بردبار تھے“ [سورۃ التوبہ: 114] کے بارے میں فرمایا: ”اَوّاہ کا مطلب ہے نہایت رحم دل۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ الْأَوَّاهِ؟ قَالَ: «هُوَ الدَّعَّاءُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اَوّاہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”بہت دعا کرنے والا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ كُلَّ يَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ انْتَابَهُ أَهْلُ الرَّسَاتِيقِ وَالْقُرَى، فَجَاءَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، " مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: الرَّحِيمُ، قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: «مَا أُنْفِقَ فِي غَيْرِ حَقٍّ» ، قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: «مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ، يَعْنِي الْعَوَارِي»
ترجمہ
یوسف بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر روز مسجد میں حدیث بیان کیا کرتے تھے، جب جمعرات کا دن ہوتا تو دیہاتوں اور بستیوں کے لوگ ان کے پاس آتے، ایک بار ایک نابینا آدمی آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! اَوّاہ کیا ہے؟ فرمایا: ”نہایت رحم دل۔“ اس نے پوچھا: تبذیر کیا ہے؟ فرمایا: ”جو ناحق خرچ کیا جائے۔“ اس نے پوچھا: ماعون کیا ہے؟ فرمایا: ”جس چیز میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، یعنی ادھار (برتن وغیرہ) دینا۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو الْعُبَيْدَيْنِ - وَكَانَ رَجُلًا ضَرِيرًا - وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَعْرِفُ لَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَاعُونِ فَقَالَ: «الْفَأْسُ، وَالدَّلْوُ» - أَوْ قَالَ: «الْفَأْسُ، وَالْقِدْرُ» - وَسَأَلَهُ عَنِ التَّبْذِيرِ، فَقَالَ: «إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حِلِّهِ» ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْأَوَّاهِ، قَالَ: «الرَّحِيمُ»
ترجمہ
یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے ابوالعبیدین کہا جاتا تھا - اور وہ نابینا تھا - اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا خیال رکھتے تھے، اس نے ان سے ماعون کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”کلہاڑی اور ڈول۔“ - یا فرمایا: ”کلہاڑی اور ہانڈی۔“ - اور اس نے تبذیر کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”مال کو ناحق جگہ خرچ کرنا۔“ اور اس نے اَوّاہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”نہایت رحم دل۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ الْعَامِرِيِّ، - وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَدِينُهُ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ؟ فَرَقَّ لَهُ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: «الرَّحِيمُ» ، قَالَ: فَمَا الْأُمَّةُ؟ قَالَ: «الَّذِي يَعْلَمُ الْخَيْرَ» ، قَالَ: فَمَا الْقَانِتُ؟ قَالَ: «الْمُطِيعُ» ، قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: «مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ» ، قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: «إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ»
ترجمہ
ابوالعبیدین عامری رحمہ اللہ سے روایت ہے - وہ نابینا تھے، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کا خیال رکھتے تھے - انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں؟ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان پر رحم آیا، تو انہوں نے پوچھا: اَوّاہ کیا ہے؟ فرمایا: ”نہایت رحم دل۔“ پوچھا: اُمّت کیا ہے؟ فرمایا: ”جو بھلائی سکھائے۔“ پوچھا: قانت کیا ہے؟ فرمایا: ”فرمانبردار۔“ پوچھا: ماعون کیا ہے؟ فرمایا: ”جس میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ پوچھا: تبذیر کیا ہے؟ فرمایا: ”مال کو ناحق خرچ کرنا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنِ التَّبْذِيرِ؟ فَقَالَ: «الْإِنْفَاقُ فِي غَيْرِ حَقٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تبذیر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”ناحق خرچ کرنا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ عَنْ قَوْلِهِ: {وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا} [الإسراء: ٢٦] قَالَ: «هُوَ النَّفَقَةُ فِي غَيْرِ حَقٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور فضول خرچی مت کرو“ [سورۃ الاسراء: 26] کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ”یہ ناحق خرچ کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ، وَسَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْمَاعُونَ: الدَّلْوُ، وَالْقِدْرُ، وَالْفَأْسُ لَا يُسْتَغْنَى عَنْهُمْ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ آپس میں یہ بات کیا کرتے تھے کہ ماعون سے مراد ڈول، ہانڈی اور کلہاڑی ہے، جن سے استغنا نہیں کیا جا سکتا (جن کے بغیر گزارہ نہیں)۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: الْمَاعُونَ قَالَ: «الْفَأْسُ، وَالْقِدْرُ، وَالدَّلْوُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ”ماعون“ کے بارے میں فرمایا: ”کلہاڑی، ہانڈی اور ڈول۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي قَوْلِهِ: {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} [الماعون: ٧] ، قَالَ: «هُوَ الْمَالُ الَّذِي لَا يُعْطَى حَقُّهُ» ، قُلْتُ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «هُوَ مَا يَتَعَاطَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ مِنَ الْخَيْرِ» قَالَ: ذَاكَ مَا أَقُولُ لَكَ
ترجمہ
ابومغیرہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور برتنے کی چیزیں (ماعون) مانگنے سے روکتے ہیں“ [سورۃ الماعون: 7] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد وہ مال ہے جس کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کیا جاتا۔“ میں نے عرض کیا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن میں لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”یہی تو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَكُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَارِيَةَ الدَّلْوِ، وَالْقِدْرِ، وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر نیک کام صدقہ ہے، اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ماعون کو ڈول، ہانڈی اور اس طرح کی چیزیں ادھار دینے کو شمار کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ الْفَأْسَ، وَالْقِدْرَ، وَالدَّلْوَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم ماعون کو کلہاڑی، ہانڈی اور ڈول شمار کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ} [النساء: ١٤٥] الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ قَالَ: «تَوَابِيتُ مِنْ حَدِيدٍ تَطْبُقُ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بیشک منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے“ [سورۃ النساء: 145] کے بارے میں فرمایا: ”لوہے کے تابوت جو ان پر بند کر دیے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ} [الأنعام: ٩٨] قَالَ: " الْمُسْتَقَرُّ: الرَّحِمُ، وَالْمُسْتَوْدَعُ: الْأَرْضُ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”پھر ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک امانت رکھنے کی جگہ“ [سورۃ الانعام: 98] کے بارے میں فرمایا: ”مستقر (ٹھہرنے کی جگہ) سے مراد رحمِ مادر ہے، اور مستودع (امانت کی جگہ) سے مراد وہ زمین ہے جہاں انسان مرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مُسْتَوْدَعُهَا فِي الدُّنْيَا، وَمُسْتَقَرُّهَا فِي الرَّحِمِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا مستودع (امانت کی جگہ) دنیا میں ہے، اور اس کا مستقر (ٹھہرنے کی جگہ) رحمِ مادر میں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً، وَفَرْشًا} [الأنعام: ١٤٢] قَالَ: «الْحَمُولَةُ مَا حَمَلَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْفَرْشُ الصِّغَارُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے ہیں اور کچھ زمین کے قریب رہنے والے (چھوٹے)“ [سورۃ الانعام: 142] کے بارے میں فرمایا: ”حمولہ سے مراد بوجھ اٹھانے والے اونٹ ہیں، اور فرش سے مراد چھوٹے جانور ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ} [الأنعام: ١٥٨] قَالَ: «طُلُوعُ الشَّمْسِ مَعَ الْقَمَرِ مِنْ مَغْرِبِهَا كَالْبَعِيرَيْنِ الْقَرِينَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”کیا وہ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تیرا رب آئے، یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آئیں؟ جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو“ [سورۃ الانعام: 158] کے بارے میں فرمایا: ”سورج کا چاند کے ساتھ مغرب سے طلوع ہونا، دونوں ساتھ ساتھ چلنے والے دو اونٹوں کی طرح۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا} [الأنعام: ١٥٨] قَالَ: «طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی کا ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا“ [سورۃ الانعام: 158] کے بارے میں فرمایا: ”سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَوْلُهُ: {وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا} [الإسراء: ٢٦] ، قَالَ: «النَّفَقَةُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور فضول خرچی مت کرو“ [سورۃ الاسراء: 26] کے بارے میں فرمایا: ”یہ ناحق خرچ کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ} [النور: ٦٠] قَالَ: «الرِّدَاءُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنی زینت ظاہر کیے بغیر اپنے کپڑے اتار دیں“ [سورۃ النور: 60] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد چادر ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ} [آل عمران: ١٦٩] إِلَى {يُرْزَقُونَ} [آل عمران: ١٦٩] قَالَ: «أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَطَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ» ، قَالَ: " فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا حَيْثُ شِئْنَا؟ " قَالَ: " ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا حَيْثُ شِئْنَا؟ ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلْ فِي سَبِيلِكَ فَنُقْتَلْ مَرَّةً أُخْرَى "، قَالَ: «فَسَكَتَ عَنْهُمْ»
ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 169]، تو فرمایا: ”شہداء کی روحیں اللہ کے ہاں سبز پرندوں کی طرح ہوتی ہیں، ان کے لیے عرش سے لٹکے ہوئے قندیل (چراغ) ہوتے ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہیں چرتی پھرتی ہیں۔“ فرمایا: ”پھر تمہارا رب ان پر ایک نظر ڈالتا ہے اور فرماتا ہے: کیا تم کچھ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور زیادہ دوں؟ وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! کیا ہم جنت میں جہاں چاہیں نہیں چرتے پھرتے؟“ فرمایا: ”پھر دوسری بار ان پر نظر ڈالتا ہے اور فرماتا ہے: کیا تم کچھ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور زیادہ دوں؟ وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! کیا ہم جنت میں جہاں چاہیں نہیں چرتے پھرتے؟ پھر تیسری بار ان پر نظر ڈالتا ہے اور فرماتا ہے: کیا تم کچھ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور زیادہ دوں؟ وہ کہتے ہیں: ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم تیری راہ میں دوبارہ لڑیں اور دوبارہ شہید ہو جائیں۔“ فرمایا: ”تو اللہ خاموش ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: ١٦٩] قَالَ: قَدْ سَأَلْنَا عَنْهَا قَالَ: «أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ كَطَيْرٍ خُضْرٍ» ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ
ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 169]، تو فرمایا: ”ہم نے بھی اس کے بارے میں پوچھا تھا (فرمایا:) شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی طرح ہیں“، پھر باقی حدیث ثوری کی روایت کی طرح بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: " هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: تُقْرِئُ نَبِيَّنَا السَّلَامَ عَنَّا، وَتُخْبِرُهُ أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تیسری بار کے بارے میں فرمایا: ”(اللہ) فرماتا ہے: کیا تم کچھ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور زیادہ دوں؟ وہ کہتے ہیں: ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺ کو سلام پہنچا دے، اور انہیں بتا دے کہ ہم (اللہ سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ} [البقرة: ٢٤] ، قَالَ: «حِجَارَةٌ مِنْ كِبْرِيتٍ يَجْعَلُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ كَيْفَ شَاءَ، وَكَمَا شَاءَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں“ [سورۃ البقرہ: 24] کے بارے میں فرمایا: ”گندھک کے پتھر، جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے پاس جس طرح اور جیسے چاہے رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَقُولُوا حِطَّةٌ} [البقرة: ٥٨] قَالَ: " قَالُوا حِنْطَةٌ حَبَّةٌ حَمْرَاءُ فِيهَا شَعِيرَةٌ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ} [البقرة: ٥٩] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور کہو: حطہ (بخش دے)“ [سورۃ البقرہ: 58] کے بارے میں فرمایا: ”انہوں نے (اس کی بجائے) کہا: حنطہ، ایک سرخ دانہ جس میں جو ہو، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”پھر ظالموں نے اس بات کو بدل کر کچھ اور کہہ دیا جو ان سے کہی گئی تھی“ [سورۃ البقرہ: 59]۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: ٢٠٣] قَالَ: «مَغْفُورٌ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تو جو شخص دو دن میں جلدی کرے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“ [سورۃ البقرہ: 203] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی اسے بخش دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " أُنْزِلَتْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ: {آمَنَ الرَّسُولُ} [البقرة: ٢٨٥] مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سورۃ البقرہ کے آخر کی یہ آیات: ”آمن الرسول...“ عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے نازل کی گئیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} [البقرة: ٢٨٤] قَالَ: " نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا: {لَهَا مَا كَسَبَتْ، وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} [البقرة: ٢٨٦] "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور اگر تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ“ [سورۃ البقرہ: 284] کے بارے میں فرمایا: ”اسے اس کے بعد والی آیت نے منسوخ کر دیا: ”اس کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا، اور اسی پر ہے جو اس نے کیا“ [سورۃ البقرہ: 286]۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الصِّرَاطَ مُحْتَضَرٌ تَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ يَقُولُونَ: يَا عِبَادَ اللهِ هَذَا الطَّرِيقُ فَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ فَإِنَّ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ كِتَابُ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ صراط (سیدھا راستہ) ایسا ہے کہ شیاطین اس پر حاضر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: اے اللہ کے بندو! یہی راستہ ہے، (لیکن) تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ صراطِ مستقیم اللہ کی کتاب ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فِي قَوْلِهِ: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا} [آل عمران: ١٠٣] ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «الْقُرْآنُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو“ [سورۃ آل عمران: 103] کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد قرآن ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا الْعَوَّامُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «حَبْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الْجَمَاعَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی رسی سے مراد جماعت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ} [آل عمران: ١٩١] قَالَ: «إِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تُصَلِّيَ قَائِمًا فَقَاعِدًا، وَإِلَّا فَمُضْطَجِعٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”جو کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں کے بل (لیٹے ہوئے) اللہ کو یاد کرتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 191] کے بارے میں فرمایا: ”اگر تم کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر پڑھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ فِي كِتَابِ اللهِ لَآيَتَيْنِ مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَرَأَهُمَا فَاسْتَغْفَرَ اللهَ إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ} [آل عمران: ١٣٥] ، وَقَوْلُهُ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ١١٠] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب میں دو ایسی آیتیں ہیں کہ کوئی بندہ گناہ کرے، پھر انہیں پڑھ کر اللہ سے مغفرت مانگے تو اللہ اسے ضرور بخش دیتا ہے: ”اور جو لوگ کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیں، اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہ کون بخشتا ہے“ [سورۃ آل عمران: 135]، اور اس کا فرمان: ”اور جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، مہربان پائے گا“ [سورۃ النساء: 110]۔“
…