❮
❯
حدیث نمبر: 8973
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ كُلَّ يَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ انْتَابَهُ أَهْلُ الرَّسَاتِيقِ وَالْقُرَى، فَجَاءَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، " مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: الرَّحِيمُ، قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: «مَا أُنْفِقَ فِي غَيْرِ حَقٍّ» ، قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: «مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ، يَعْنِي الْعَوَارِي»
ترجمہ

یوسف بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر روز مسجد میں حدیث بیان کیا کرتے تھے، جب جمعرات کا دن ہوتا تو دیہاتوں اور بستیوں کے لوگ ان کے پاس آتے، ایک بار ایک نابینا آدمی آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! اَوّاہ کیا ہے؟ فرمایا: ”نہایت رحم دل۔“ اس نے پوچھا: تبذیر کیا ہے؟ فرمایا: ”جو ناحق خرچ کیا جائے۔“ اس نے پوچھا: ماعون کیا ہے؟ فرمایا: ”جس چیز میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، یعنی ادھار (برتن وغیرہ) دینا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8973
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 206، حدیث 9005