کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: أَبَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يُسْتَأْسَرَ، فَقاتَلُوهُ فَقَتَلُوهُ، وَقَتَلُوا ابْنَيْهِ وَأَصْحَابَهُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مِنْهُ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ الطَّفُّ، وَانْطُلِقَ بِعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، وَسُكَيْنَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ قَدْ بَلَغَ، فَبَعَثَ بِهِمْ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَمَرَ بِسُكَيْنَةَ فَجَعَلَهَا خَلْفَ سَرِيرِهِ لِئَلَّا تَرَى رَأْسَ أَبِيهَا وَذَوِي قَرابَتِهَا، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي غُلٍّ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَضَرَبَ عَلَى ثَنِيَّتَيِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:
[البحر الطويل]
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا
فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ} [الحديد: ٢٢] . فَثَقُلَ عَلَى يَزِيدَ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ، وَتَلَا عَلِيٌّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ يَزِيدُ: بَلْ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ويَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَمَا وَاللهِ لَوْ رَآنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْلُولِينَ لَأَحَبَّ أَنْ يُخَلِّيَنَا مِنَ الْغُلِّ» . قَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلُّوهُمْ مِنَ الْغُلِّ. قَالَ: «وَلَوْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بُعْدٍ لَأَحَبَّ أَنْ يُقَرِّبَنَا» . قَالَ: صَدَقْتَ، فَقَرِّبُوهُمْ. فَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ وَسُكَيْنَةُ يَتَطَاوَلَانِ لِتَرَيَا رَأْسَ أَبِيهِمَا، وَجَعَلَ يَزِيدُ يَتَطَاوَلُ فِي مَجْلِسِهِ لِيَسْتُرَ عَنْهُمَا رَأْسَ أَبِيهِمَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَجُهِّزُوا، فَأَصْلَحَ إِلَيْهِمْ، وَأُخْرِجُوا إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ
… اور سیدنا علی (زین العابدین) نے اللہ عزوجل کی کتاب سے ایک آیت تلاوت کی، تو یزید نے کہا: ”بلکہ یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہے، اور وہ بہت کچھ معاف کر دیتا ہے“ [سورۃ الشوریٰ]۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سن لو، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ ﷺ ہمیں زنجیروں میں جکڑا دیکھتے تو پسند کرتے کہ ہمیں زنجیروں سے آزاد کر دیا جائے۔“ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، تو انہیں زنجیروں سے آزاد کر دو۔ فرمایا: ”اور اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے دور کھڑے ہوتے تو آپ پسند کرتے کہ ہمیں قریب کر لیا جائے۔“ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، تو انہیں قریب کرو۔ تو سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ اپنے والد کا سر دیکھنے کے لیے اونچی ہونے لگیں، اور یزید اپنی مجلس میں اونچا ہونے لگا تاکہ ان دونوں سے ان کے والد کا سر چھپا سکے۔ پھر اس نے حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کیا جائے، تو اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، اور انہیں مدینہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2793
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 104، حدیث 2806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقْتَلُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ مِنْ مُهَاجَرَتِي»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ میری ہجرت کے ساٹھ سال کے آغاز پر شہید کیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2794
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 105، حدیث 2807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقْتَلُ الْحُسَيْنُ حِينَ يَعْلُوهُ الْقَتِيرُ» . قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: الْقَتِيرُ: الشَّيْبُ.
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسین اس وقت شہید ہوں گے جب ان پر بڑھاپا آ چکا ہو گا۔“
امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قتیر سے مراد سفید بال (بڑھاپا) ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2795
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 105، حدیث 2808
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
عوانہ بن حکم کہتے ہیں: جب عبدالرحمٰن بن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر وار کیا... راوی نے مزید حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2796
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 105، حدیث 2809
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَتُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھاون برس کی عمر میں شہید ہوئے، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اٹھاون برس کی عمر میں شہید ہوئے، اور علی بن حسین اٹھاون برس کی عمر میں وفات پا گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 105، حدیث 2810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى، قَالَ: صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللهِ، صَبْرًا بِشَطِّ الْفُرَاتِ. قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، فَقُلْتُ: هَلْ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللهِ؟ مَالِي أَرَى عَيْنَيْكَ مُفِيضَتَيْنِ؟ قَالَ: " قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي تَقْتُلُ الْحُسَيْنَ ابْنِي. ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا لَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا "
ترجمہ
عبداللہ بن نجی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر پر تھے، تو جب وہ نینویٰ کے مقام کے مقابل پہنچے تو انہوں نے فرمایا: صبر کرنا اے ابوعبداللہ، فرات کے کنارے صبر کرنا۔ میں نے عرض کیا: یہ کیا بات ہے؟ فرمایا: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا جبکہ آپ کی دونوں آنکھیں بہہ رہی تھیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا کسی نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ مجھے آپ کی آنکھیں کیوں بہتی نظر آ رہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی جبریل علیہ السلام میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت میرے بیٹے حسین کو قتل کرے گی۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اس کی مٹی دکھاؤں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مٹھی بھر لی، تو جب میں نے اسے دیکھا تو اپنی آنکھوں کو بہنے سے نہ روک سکا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2798
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 105، حدیث 2811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: لَمَّا أُحِيطَ بِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قِيلَ: كَرْبَلَاءُ. فَقَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ»
ترجمہ
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں: جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا تو انہوں نے پوچھا: اس زمین کا نام کیا ہے؟ کہا گیا: کربلا۔ تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے سچ فرمایا تھا: یہ کرب اور بلا کی سرزمین ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2799
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 106، حدیث 2812
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ حَسَّانَ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالُوا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَجَاءَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ‍ احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ» . فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى الْبَابِ إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَجَعَلَ يَتَقَفَّزُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَئِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: تُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُرِيَكَ مِنْ تُرْبَةِ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهَا. قَالَ: فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَأَتَاهُ بِسَهْلَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَتْهُ فِي ثَوْبِهَا. قَالَ ثَابِتٌ: «كُنَّا نَقُولُ إِنَّهَا كَرْبَلَاءُ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بارش کے فرشتے نے اپنے رب عزوجل سے اجازت مانگی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی زیارت کرے، تو اللہ نے اسے اجازت دے دی، تو وہ آپ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ سیدہ ام سلمہ کے گھر میں تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! دروازے پر ہمارے لیے نگرانی کرو، کوئی ہمارے پاس داخل نہ ہو۔“ وہ دروازے پر ہی تھیں کہ سیدنا حسین آ گئے اور دروازہ کھول دیا، اور نبی کریم ﷺ کی پیٹھ پر چڑھنے لگے، اور نبی کریم ﷺ انہیں سمیٹ کر بوسہ دے رہے تھے، تو فرشتے نے آپ ﷺ سے کہا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں اے محمد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: سن لیجیے، آپ کی امت اسے قتل کرے گی، اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس جگہ کی مٹی دکھاؤں جہاں وہ قتل ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اس جگہ سے جہاں وہ قتل ہوں گے ایک مٹھی بھری اور آپ کے پاس سرخ، نرم مٹی لے آیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے لے کر اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ ثابت کہتے ہیں: ”ہم کہا کرتے تھے کہ یہ کربلا کی مٹی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 106، حدیث 2813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَنَزَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْكَبٌّ، وَلَعِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، وَمَا لِي لَا أُحِبُّ ابْنِي» . قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ مِنْ بَعْدِكَ. فَمَدَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَدَهُ، فَأَتَاهُ بِتُرْبَةٍ بَيْضَاءَ، فَقَالَ: فِي هَذِهِ الْأَرْضِ يُقْتَلُ ابْنُكَ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، وَاسْمُهَا الطَّفُّ. فَلَمَّا ذَهَبَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتُّرْبَةُ فِي يَدِهِ يَبْكِي، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ ابْنِي مَقْتُولٌ فِي أَرْضِ الطَّفِّ، وَأَنَّ أُمَّتِي سَتُفْتَتَنُ بَعْدِي» . ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عَلِيٌّ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَحُذَيْفَةُ وَعَمَّارٌ وَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا: مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: «أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ ابْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بَعْدِي بِأَرْضِ الطَّفِّ، وَجَاءَنِي بِهَذِهِ التُّرْبَةِ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا مَضْجَعَهُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (حسین رضی اللہ عنہ بچپن میں) رسول اللہ ﷺ پر، جب آپ سجدے کی حالت میں جھکے ہوئے تھے، اچھل کر چڑھ گئے اور آپ کی پیٹھ پر کھیلنے لگے۔ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے محمد! کیا آپ اسے محبوب رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل، مجھے کیا ہوا کہ میں اپنے بیٹے سے محبت نہ کروں۔“ جبریل نے کہا: آپ کی امت عنقریب آپ کے بعد اسے قتل کرے گی۔ پھر جبریل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سفید مٹی لے آئے اور فرمایا: اے محمد! اسی زمین میں آپ کا یہ بیٹا قتل کیا جائے گا، اور اس کا نام طف ہے۔ جب جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، مٹی آپ کے ہاتھ میں تھی اور آپ رو رہے تھے، اور فرمایا: ”اے عائشہ! جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین سرزمینِ طف میں قتل کیا جائے گا، اور میری امت میرے بعد فتنے میں مبتلا ہوگی۔“ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف نکلے، جن میں علی، ابوبکر، عمر، حذیفہ، عمار اور ابوذر رضی اللہ عنہم شامل تھے، اور آپ رو رہے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد سرزمینِ طف میں قتل کیا جائے گا، اور وہ میرے پاس یہ مٹی لائے ہیں، اور مجھے خبر دی ہے کہ اسی میں اس کی آرام گاہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 107، حدیث 2814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، أَلَا أُعَجِّبُكِ؟ لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ مَلَكٌ آنِفًا مَا دَخَلَ عَلَيَّ قَطُّ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا مَقْتُولٌ، وَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ تُرْبَةً يُقْتَلُ فِيهَا، فَتَنَاوَلَ الْمَلَكُ بِيَدِهِ، فَأَرَانِي تُرْبَةً حَمْرَاءَ ".
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں تمہیں ایک عجیب بات نہ بتاؤں؟ ابھی ابھی میرے پاس ایک فرشتہ آیا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس نے کہا: بے شک یہ میرا بیٹا قتل کیا جائے گا۔ اور کہا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ مٹی دکھاؤں جس میں یہ قتل ہوگا۔ چنانچہ فرشتے نے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے سرخ مٹی دکھائی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 107، حدیث 2815
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: قَالَ لِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ لَهُمْ مَلِكٌ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے مجھ سے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک بادشاہ تھا…“ پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 107، حدیث 2816
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا مِنْ بَعْدِكَ. فَأَوْمأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحُسَيْنِ، فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِيعَةٌ عِنْدَكِ هَذِهِ التُّرْبَةُ» . فَشَمَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «وَيْحَ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ» . قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِذَا تَحَوَّلَتْ هَذِهِ التُّرْبَةُ دَمًا فَاعْلَمِي أَنَّ ابْنِي قَدْ قُتِلَ» قَالَ: فَجَعَلَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كُلَّ يَوْمٍ، وَتَقُولُ: إِنَّ يَوْمًا تَحَوَّلِينَ دَمًا لَيَوْمٌ عَظِيمٌ "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: (جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے کہا) ”آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے حسین کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے اور انہیں اپنے سینے سے لگا لیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مٹی تمہارے پاس امانت ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے سونگھا اور فرمایا: ”کرب اور بلا پر افسوس!“ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو جان لینا کہ میرا بیٹا قتل کر دیا گیا ہے۔“ (راوی) کہتے ہیں: چنانچہ ام سلمہ نے اسے ایک شیشی میں رکھ لیا، پھر وہ ہر روز اسے دیکھتیں اور کہتیں: جس دن یہ خون میں بدل جائے وہ بڑا سخت دن ہوگا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2804
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2817
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، وَقَالَتْ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ، لَعَنَهُمُ اللهُ»
ترجمہ
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا، انہوں نے اہلِ عراق پر لعنت بھیجی اور فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، انہوں نے اسے دھوکہ دیا اور بے یار و مددگار چھوڑا، اللہ کی ان پر لعنت ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2805
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2818
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ ". فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی نہ آئے۔“ میں انتظار کرتی رہی کہ اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ اندر آگئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی سسکیوں کی آواز سنی کہ آپ رو رہے ہیں، تو میں نے جھانک کر دیکھا تو حسین آپ کی گود میں تھے اور نبی کریم ﷺ ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ کب اندر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے، انہوں نے کہا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دنیا کی حد تک تو ہاں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اسے ایک ایسی سرزمین میں قتل کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔“ پھر جبریل علیہ السلام نے اس کی مٹی میں سے کچھ لے کر نبی کریم ﷺ کو دکھائی۔ پھر جب حسین کو (شہادت کے وقت) گھیر لیا گیا تو انہوں نے پوچھا: اس زمین کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: کربلا۔ تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ کرب و بلا کی سرزمین ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2806
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 108، حدیث 2819
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسِي بِالْبَابِ، وَلَا يَلِجَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقُمْتُ بِالْبَابِ، إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ، فَسَبَقَنِي الْغُلَامُ، فَدَخَلَ عَلَى جَدِّهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ، أَمَرْتَنِي أَنْ لَا يَلِجَ عَلَيْكَ أَحَدٌ، وَإِنَّ ابْنَكَ جَاءَ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَسَبَقَنِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَطَلَّعْتُ مِنَ الْبَابِ، فَوَجَدْتُكَ تُقَلِّبُ بِكَفَّيْكَ شَيْئًا وَدُمُوعُكَ تَسِيلُ، وَالصَّبِيُّ عَلَى بَطْنِكَ. قَالَ: «نَعَمْ، أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَهُ، وَأَتَانِي بِالتُّرْبَةِ الَّتِي يُقْتَلُ عَلَيْهَا، فَهِيَ الَّتِي أُقَلِّبُ بِكَفَّيَّ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے پر بیٹھ جاؤ، میرے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے۔“ میں دروازے پر کھڑی ہو گئی، اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ آگئے۔ میں انہیں روکنے کے لیے بڑھی مگر وہ بچہ مجھ سے آگے نکل گیا اور اپنے نانا کے پاس اندر چلا گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ کوئی اندر نہ آئے، اور آپ کا یہ بیٹا آگیا، میں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ آگے نکل گیا۔ جب دیر ہوئی تو میں نے دروازے سے جھانکا تو دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلیوں میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں، اور بچہ آپ کے پیٹ پر (بیٹھا) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میرے پاس جبریل آئے، انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت اسے قتل کرے گی، اور میرے پاس وہ مٹی لائے جس پر یہ قتل ہوگا، یہی وہ مٹی ہے جسے میں اپنی ہتھیلیوں میں الٹ پلٹ رہا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 109، حدیث 2820
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ، وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ يُقَلِّبُهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ - لِلْحُسَيْنِ - فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَرِنِي تُرْبَةَ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا، فَهَذِهِ تُرْبَتُهَا "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ لیٹے، پھر جب بیدار ہوئے تو دل بوجھل تھا، اور آپ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مٹی کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ یہ — یعنی حسین — سرزمینِ عراق میں قتل کیا جائے گا، تو میں نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اس زمین کی مٹی دکھائیں جہاں یہ قتل ہوگا، تو یہ اسی کی مٹی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2808
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 109، حدیث 2821
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ» . فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمُ، فَوُجِدَ قَدْ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ پراگندہ حال اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج سے مسلسل اسے چن رہا ہوں۔“ پھر اس دن کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اسی دن وہ شہید کیے گئے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2809
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَزَرَةَ، عَنْ أَبِي حِبَرَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ؟» قَالُوا: إِذًا نُبْلِيَ اللهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا. فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْزِلُنَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ، ولَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ» . ثُمَّ أَقْبَلَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
هُمُ أَوْرَدُوهُمْ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا ... أَحَبُّوا نَجَاةً لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا
ترجمہ
ابوحبرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ کوفہ پہنچے، تو منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان اترے گی؟“ لوگوں نے کہا: تب تو اللہ ہمیں ان کے بارے میں اچھی آزمائش دے گا۔ آپ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ضرور تمہارے درمیان اترے گی، اور تم ضرور ان کی طرف نکلو گے، پھر تم انہیں قتل کر دو گے۔“ پھر آپ یہ شعر پڑھنے لگے:
”انہیں دشمن دھوکے سے موت کے گھاٹ لے گئے پھر خود بھاگ کھڑے ہوئے، انہوں نے ایسی نجات چاہی جس میں نہ نجات ہے نہ کوئی عذر۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2810
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: «لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ قَتْلًا، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: ”حسین ضرور شہید کیا جائے گا، اور میں اس مٹی کو جانتا ہوں جہاں وہ شہید ہوگا، وہ دو نہروں کے قریب ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2811
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2824
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هَرْثَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَهْرَيْ كَرْبَلَاءَ، فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ تَحْتَهَا بَعْرُ غِزْلَانٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ قَبْضَةً فَشَمَّهَا، ثُمَّ قَالَ: «يُحْشَرُ مِنْ هَذَا الظَّهْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ»
ترجمہ
ابوہرثمہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کربلا کی دو نہروں کے پاس تھا، آپ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرنوں کی مینگنیاں تھیں، تو آپ نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھا کر سونگھی، پھر فرمایا: ”اس زمین سے ستر ہزار لوگ اٹھائے جائیں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2812
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 111، حدیث 2825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُمَينَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ مَخْرَمٍ، وَكَانَ عُثْمَانِيًّا، قَالَ: إِنِّي لَمَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ أَتَى كَرْبَلَاءَ، فَقَالَ: «يُقْتَلُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ شُهَدَاءُ لَيْسَ مِثْلَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا شُهَدَاءُ بَدْرٍ» . فَقُلْتُ: بَعْضُ كِذْبَاتِهِ، وَثَمَّ رِجْلُ حِمَارٍ مَيِّتٍ، فَقُلْتُ لِغُلَامي: خُذْ رِجْلَ هَذَا الْحِمَارِ فَأَوْتِدْهَا فِي مَقْعَدِهِ وَغَيِّبْهَا، فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرْبَةً، فَلَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، انْطَلَقْتُ وَمَعِي أَصْحَابٌ لِي، فَإِذَا جُثَّةُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رِجْلِ ذَاكَ الْحِمَارِ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ رِبْضَةٌ حَوْلَهُ "
ترجمہ
شیبان بن مخرم بیان کرتے ہیں، اور وہ عثمانی (یعنی عثمان رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں) تھے: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب وہ کربلا پہنچے، تو آپ نے فرمایا: ”اس جگہ ایسے شہداء قتل کیے جائیں گے جن جیسے شہداء صرف بدر کے شہداء ہی ہوں گے۔“ میں نے (دل میں) کہا: یہ ان کی مبالغہ آرائیوں میں سے ایک ہے۔ وہاں ایک مردہ گدھے کی ٹانگ پڑی تھی، تو میں نے اپنے غلام سے کہا: اس گدھے کی ٹانگ لے کر اسی جگہ گاڑ دو اور چھپا دو۔ پھر زمانہ گزرتا رہا، یہاں تک کہ جب حسین بن علی رضی اللہ عنہما شہید ہوئے، تو میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ وہاں گیا، تو دیکھا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی لاش اسی گدھے کی ٹانگ کے مقام پر پڑی ہے، اور ان کے ساتھی ان کے اردگرد پڑے ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2813
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 111، حدیث 2826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَأْسِ الْجَالُوتِ، قَالَ: «كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّهُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ ابْنُ نَبِيٍّ، فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُهَا رَكَّضْتُ فَرَسِي حَتَّى أَجُوزَ عَنْهَا، فَلَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ جَعَلْتُ أَسِيرُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى هَيْأَتِي»
ترجمہ
راس الجالوت بیان کرتا ہے: ہم سنا کرتے تھے کہ کربلا میں ایک نبی کا بیٹا قتل کیا جائے گا، چنانچہ جب بھی میں وہاں سے گزرتا تو اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر جلدی سے نکل جاتا یہاں تک کہ اس جگہ سے آگے نکل جاتا۔ پھر جب حسین شہید کر دیے گئے تو اس کے بعد میں اپنی معمول کی رفتار سے وہاں سے گزرنے لگا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2814
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 111، حدیث 2827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا فُرَاتُ بْنُ مَحْبُوبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَسْلَمُ الْمِنْقَرِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَدَخَلَ سِنَانُ بْنُ أَنَسٍ قَاتِلُ الْحُسَيْنِ، فَإِذَا شَيْخٌ آدَمُ فِيهِ حِنَّاءٌ، طَوِيلُ الْأَنْفِ فِي وَجْهِهِ بَرَشٌ، فَأُوقِفَ بِحِيَالِ الْحَجَّاجِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ، فَقَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ الْحُسَيْنَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «وَكَيْفَ صَنَعْتَ بِهِ؟» قَالَ: دَعَمْتُهُ بِالرُّمْحِ، وَهَبَرْتُهُ بِالسَّيْفِ هَبْرًا. فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: «أَمَا إِنَّكُمَا لَنْ تَجْتَمِعَا فِي دَارٍ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں حجاج کے پاس گیا تو سنان بن انس، جس نے حسین کو قتل کیا تھا، اندر آیا۔ وہ گندمی رنگ کا بوڑھا شخص تھا جس نے مہندی لگا رکھی تھی، لمبی ناک اور چہرے پر داغ دھبے تھے۔ اسے حجاج کے سامنے کھڑا کیا گیا، حجاج نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: ”تو نے حسین کو قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ حجاج نے کہا: ”تو نے اس کے ساتھ کیا کیا؟“ اس نے کہا: میں نے اسے نیزے سے ٹیک دیا اور تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس پر حجاج نے اس سے کہا: ”سن لو، تم دونوں کبھی ایک ہی گھر میں جمع نہیں ہو سکتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2815
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 111، حدیث 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي»
ترجمہ
ابراہیم (نخعی) بیان کرتے ہیں: اگر میں ان لوگوں میں شامل ہوتا جنہوں نے حسین بن علی کو قتل کیا، پھر مجھے بخش دیا جاتا، پھر مجھے جنت میں داخل کر دیا جاتا، تو مجھے اس بات پر شرم آتی کہ میں نبی کریم ﷺ کے سامنے سے گزروں اور آپ میرے چہرے کی طرف دیکھیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2816
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 112، حدیث 2829
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يَقُولُ: " لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ، فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمِ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللهُ، فَرَمَاهُ اللهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ، فَطَمَسَ اللهُ بَصَرَهُ "
ترجمہ
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: علی اور اس گھرانے (اہل بیت) کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ ہمارا ایک ہمسایہ، جو بنی ہجیم سے تھا، اس نے کہا: کیا تم نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا؟ اللہ اسے ہلاک کرے۔ (یہ کہنے پر) اللہ تعالیٰ نے اس کی دونوں آنکھوں پر دو ستارے دے مارے اور اس کی بینائی زائل کر دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2817
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 112، حدیث 2830
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، نا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كُرْدُوسٍ، عَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارٌ، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ "
ترجمہ
عبیداللہ بن زیاد کے دربان بیان کرتے ہیں: میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے محل میں داخل ہوا، جب حسین قتل کیے جا چکے تھے، تو اس کے چہرے پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، اس نے اپنی آستین سے اپنے چہرے کو یوں ڈھانپ لیا۔ پھر اس نے کہا: کیا تم نے دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو اس نے مجھے حکم دیا کہ اسے چھپائے رکھوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2818
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 112، حدیث 2831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: " لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ وَأَصْحَابِهِ، نُصِبَتْ فِي الرَّحَبَةِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّؤُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرِ عُبَيْدِ اللهِ، فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً، ثُمَّ خَرَجَتْ فَذَهَبَتْ، ثُمَّ قَالُوا: قَدْ جَاءَتْ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا "
ترجمہ
عمارہ بن عمیر بیان کرتے ہیں: جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے تو انہیں رحبہ (چوک) میں نصب کر دیا گیا۔ میں وہاں پہنچا تو لوگ کہہ رہے تھے: آگئی، آگئی! تو دیکھا کہ ایک سانپ آیا جو سروں کے درمیان سے گزرتا ہوا عبیداللہ کے نتھنے میں گھس گیا، تھوڑی دیر ٹھہرا، پھر نکل کر چلا گیا۔ پھر لوگوں نے کہا: پھر آگئی۔ اس نے یہ عمل دو یا تین بار دہرایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2819
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 112، حدیث 2832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ رِجَالًا نَزَلُوا مِنَ السَّمَاءِ مَعَهُمْ حِرابٌ يَتَتَبَّعُونَ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَا لَبِثَتْ أَنْ نَزَلَ الْمُخْتَارُ فَقَتَلَهُمْ»
ترجمہ
شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کچھ لوگ آسمان سے اترے، ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، وہ حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ مختار (ثقفی) نمودار ہوا اور اس نے انہیں قتل کر ڈالا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2820
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو خَالِدٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ لَمْ يُرْفَعْ حَجَرٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عَبِيطٌ»
ترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو بیت المقدس میں جو پتھر بھی اٹھایا گیا اس کے نیچے تازہ خون پایا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2821
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2834
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: جس دن حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، شام میں کوئی پتھر نہیں اٹھایا گیا مگر اس کے نیچے سے خون نکلا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2822
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ حَكِيمٍ، قَالَتْ: «قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ»
ترجمہ
ام حکیم بیان کرتی ہیں: جب حسین بن علی شہید کیے گئے تو میں اس وقت ایک نوعمر لڑکی تھی، آسمان کئی دن تک جمے ہوئے خون کے لوتھڑے جیسا (سرخ) رہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2823
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي نُوَيْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْمَرَّتِ السَّمَاءُ» . قُلْتُ: أَيَّ شَيْءٍ تَقُولُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْكَذَّابَ مُنَافِقٌ، إِنَّ السَّمَاءَ احْمَرَّتْ حِينَ قُتِلَ»
ترجمہ
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں: جب حسین شہید کیے گئے تو آسمان سرخ ہو گیا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا: آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جھوٹا شخص منافق ہوتا ہے، بے شک جب وہ شہید ہوئے تو آسمان سرخ ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2824
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 113، حدیث 2837
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا هِيَ»
ترجمہ
ابوقبیل بیان کرتے ہیں: جب حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو سورج کو ایسا گرہن لگا کہ دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ قیامت ہی آگئی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2825
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَثْنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى الشَّمْسِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ، وَنَظَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا»
ترجمہ
عیسیٰ بن حارث کندی بیان کرتے ہیں: جب حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو ہم سات دن تک، جب بھی عصر کی نماز پڑھتے، دیواروں کے کناروں پر سورج کو ایسے دیکھتے جیسے زعفرانی رنگ کی چادریں ہوں، اور ستاروں کو دیکھتے کہ وہ آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2826
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ فِي السَّمَاءِ حُمْرَةٌ حَتَّى قُتِلَ الْحُسَيْنُ»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: آسمان میں سرخی اس وقت تک نہیں تھی جب تک حسین شہید نہیں کیے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2827
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ الْحُسَيْنَ وَهُوَ يَشْرَبُ، فَشُلَّ شِدْقُهُ، فَقَالَ: «لَا أَرْوَاكَ اللهُ» قَالَ: «فَشَرِبَ حَتَّى تَفَطَّرَ»
ترجمہ
کلبی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حسین کو نشانہ بنایا جب وہ پانی پی رہے تھے، تو اس (نشانہ باز) کے جبڑے کو فالج ہو گیا۔ حسین نے فرمایا: ”اللہ تجھے کبھی سیراب نہ کرے۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر وہ پیتا رہا یہاں تک کہ پھٹ کر مر گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2841
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِحُسينٍ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا، واسْتَمَرَّتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالمَرْعَى الْوَبِيلِ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ، لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللهِ، وَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بُرْمًا» . وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ
ترجمہ
محمد بن حسن بیان کرتے ہیں: جب عمر بن سعد حسین کے مقابل اتر آیا، اور حسین کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ انہیں قتل کر کے رہیں گے، تو وہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو معاملہ تم دیکھ رہے ہو وہ پیش آچکا ہے، بے شک دنیا بدل چکی ہے اور اجنبی ہو گئی ہے، اس کی بھلائی پیٹھ پھیر چکی ہے، اور یہ مسلسل ایسے ہی چلی جا رہی ہے کہ اس میں سے صرف برتن کی تہہ میں بچی ہوئی تلچھٹ کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، سوائے ایک ذلیل زندگی کے جیسے زہریلی چراگاہ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جاتا، اور باطل سے روکا نہیں جاتا؟ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی رغبت رکھے۔ اور میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو تنگی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔“ اور حسین رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن، اکسٹھ ہجری میں، طف کے مقام کربلا میں شہید کیے گئے، اس وقت آپ کے جسم پر خز کی مٹیالے رنگ کی جبہ تھی، اور آپ نے بالوں کو سیاہ خضاب لگا رکھا تھا، اور آپ کی عمر چھپن برس تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَهُمْ صِغَارٌ لَمْ يَبْلُغُوا» . قَالَ: «وَلَمْ يُبَايِعْ صَغِيرًا إِلَّا مِنَّا»
ترجمہ
امام جعفر بن محمد رضی اللہ عنہما اپنے والد (محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حسن، حسین، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم سے بیعت لی جبکہ وہ چھوٹے تھے، ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔ (راوی) کہتے ہیں: ”اور آپ ﷺ نے ہمارے سوا کسی چھوٹے بچے سے بیعت نہیں لی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2830
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2843
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا الزُّبَيْرُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَمِّي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «حَجَّ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا»
ترجمہ
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: حسین رضی اللہ عنہ نے پچیس حج پیدل کیے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2831
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2844
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: «كَانَ جَسَدُ الْحُسَيْنِ شِبْهَ جَسَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
محمد بن ضحاک بیان کرتے ہیں: حسین کا جسم رسول اللہ ﷺ کے جسم سے مشابہ تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2832
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2845