حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ حَسَّانَ الْمَرْوَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالُوا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزُورَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَجَاءَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ‍ احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ» . فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى الْبَابِ إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَجَعَلَ يَتَقَفَّزُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَئِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: تُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُرِيَكَ مِنْ تُرْبَةِ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهَا. قَالَ: فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَأَتَاهُ بِسَهْلَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَتْهُ فِي ثَوْبِهَا. قَالَ ثَابِتٌ: «كُنَّا نَقُولُ إِنَّهَا كَرْبَلَاءُ»
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بارش کے فرشتے نے اپنے رب عزوجل سے اجازت مانگی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی زیارت کرے، تو اللہ نے اسے اجازت دے دی، تو وہ آپ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ سیدہ ام سلمہ کے گھر میں تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! دروازے پر ہمارے لیے نگرانی کرو، کوئی ہمارے پاس داخل نہ ہو۔“ وہ دروازے پر ہی تھیں کہ سیدنا حسین آ گئے اور دروازہ کھول دیا، اور نبی کریم ﷺ کی پیٹھ پر چڑھنے لگے، اور نبی کریم ﷺ انہیں سمیٹ کر بوسہ دے رہے تھے، تو فرشتے نے آپ ﷺ سے کہا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں اے محمد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: سن لیجیے، آپ کی امت اسے قتل کرے گی، اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس جگہ کی مٹی دکھاؤں جہاں وہ قتل ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اس جگہ سے جہاں وہ قتل ہوں گے ایک مٹھی بھری اور آپ کے پاس سرخ، نرم مٹی لے آیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے لے کر اپنے کپڑے میں رکھ لیا۔ ثابت کہتے ہیں: ”ہم کہا کرتے تھے کہ یہ کربلا کی مٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 106، حدیث 2813