کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَّا طُهْرٌ»
ترجمہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی پیدائش کے درمیان صرف ایک طہر (پاکی کے وقفے) کا فاصلہ تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ يَعْفُورٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَضَّبْتَهَا دَمًا حِينَ أَتَى بِكَ حِينَ وُلِدْتَ، فَسَررَّكَ ولَفَّكَ فِي خِرْقَةٍ، وَلَقَدْ تَفَلَ فِي فِيكَ، وَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ مَا أَدْرِي مَا هَوَ، وَلَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِي اللهُ عَنْهَا سَبَقَتْهُ بِقَطْعِ سُرَّةِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «لَا تَسْبِقِينِي بِهَا»
ترجمہ
… اور تمہاری ناف کاٹی اور تمہیں کپڑے میں لپیٹا، اور تمہارے منہ میں اپنا لعاب ڈالا، اور ایسی بات کہی جو مجھے معلوم نہیں کیا تھی، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ناف کاٹنے میں آپ ﷺ سے پہل کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس معاملے میں مجھ سے پہل نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَى وَجْهِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ عُنُقِهِ إِلَى كَعْبِهِ خَلْقًا ولَوْنًا فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ»
ترجمہ
ہبیرہ بن یریم کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے کو گردن سے چہرے تک دیکھے تو وہ حسن بن علی کو دیکھے، اور جسے یہ پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے کو گردن سے ٹخنے تک، بناوٹ اور رنگت میں، دیکھے تو وہ حسین بن علی کو دیکھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ عُقْبَةَ بْنِ قَبِيصَةَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَأْسَهِ إِلَى عُنُقِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحَسَنِ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا لَدُنْ عُنُقِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ، اقْتَسَمَاهُ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو سر سے گردن تک دیکھنا چاہے تو وہ حسن کو دیکھے، اور جو گردن سے نیچے کا حصہ دیکھنا چاہے تو وہ حسین کو دیکھے، ان دونوں نے اسے آپس میں تقسیم کر لیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ الْحَسَنُ أَشْبَهَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّحْرِ فَصَاعِدًا» . فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حسن سینے سے اوپر تک رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔“ اور اسی جیسی حدیث بیان کی، کہ ان دونوں نے آپ ﷺ کی مشابہت آپس میں تقسیم کر لی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ رَأْسِهِ إِلَى نَحْرِهِ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”سر سے سینے تک رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے حسن تھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الرَّأْسِ إِلَى النَّحْرِ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”حسن سر سے سینے تک رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» فَقُلْتُ: حَرْبًا. فَقَالَ: «بَلْ هُوَ حَسَنٌ» . فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْناهُ حَرْبًا، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ائْتُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» فَقُلْتُ: حَرْبًا. فَقَالَ: «بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ» . فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» فَقُلْتُ: حَرْبًا. فَقَالَ: «بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ» . ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَرَ وَشُبَيْرَ وَمُشَبِّرَ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرے بیٹے کو مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسین پیدا ہوئے تو ہم نے ان کا نام حرب رکھا، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ حسین ہے۔“ پھر جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرے بیٹے کو مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارون علیہ السلام کی اولاد کے ناموں پر رکھے ہیں: شبر، شبیر اور مشبر۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنْهُ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟» قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا. قَالَ: «بَلْ هُوَ حَسَنٌ» . فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، فَقُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا. فَقَالَ: «بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ» . فَلَمَّا وَلَدَتِ الثَّالِثَ جَاءَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، فَقُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا. فَقَالَ: «بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ» . ثُمَّ قَالَ: «سَمَّيْتُهُمْ بِوَلَدِ هَارُونَ شَبَرَ وَشُبَيْرَ وَمُشَبِّرَ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”میرے بیٹے کو مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ تشریف لائے اور وہی بات فرمائی، میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ حسین ہے۔“ پھر جب سیدہ فاطمہ نے تیسرے بیٹے کو جنم دیا تو آپ ﷺ تشریف لائے اور وہی بات فرمائی، میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارون علیہ السلام کی اولاد کے ناموں پر رکھے ہیں: شبر، شبیر اور مشبر۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَكْتَنِيَ بِأَبِي حَرْبٍ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا سَمَّيْتُمْ؟» فَقُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا. فَقَالَ: «هُوَ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں پسند کرتا تھا کہ میری کنیت ابوحرب ہو، تو جب سیدنا حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”تم نے کیا نام رکھا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ فرمایا: ”یہ حسن ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِي بْنِ هَانِي، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ سَمَّيْتَهُ؟» فَقُلْتُ: حَرْبًا. فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنْ سَمِّهِ حَسَنًا» . ثُمَّ وُلِدَ الْحُسَيْنُ، فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَمَّيْتَهُ؟» فَقُلْتُ: حَرْبًا. قَالَ: «بَلْ سَمِّهِ حُسَيْنًا» . ثُمَّ وُلِدَ آخَرُ، فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَمَّيْتَهُ؟» قُلْتُ: حَرْبًا. قَالَ: «سَمِّهِ مُحَسِّنًا»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام حسن رکھو۔“ پھر سیدنا حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس کا نام حسین رکھو۔“ پھر ایک اور بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کا نام کیا رکھا؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”اس کا نام محسن رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنْتُ رَجُلًا أُحِبُّ الْحَرْبَ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ هَمَمْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ حَرْبًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ هَمَمْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ حَرْبًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُسَيْنَ، وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي سَمَّيْتُ ابْنَيَّ هَذَيْنِ بِاسْمِ ابْنَيْ هَارُونَ شَبَرَ وَشُبَيْرَ»
ترجمہ
… جب سیدنا حسین پیدا ہوئے تو میں نے ارادہ کیا کہ ان کا نام حرب رکھوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام حسین رکھا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے ان دونوں بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے دونوں بیٹوں شبر اور شبیر کے نام پر رکھے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا بَرْذَعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمَّيْتُهُمَا - يَعْنِي الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - بِاسْمِ ابْنَيْ هَارُونَ شَبَرَ وَشُبَيْرَ»
ترجمہ
سیدنا سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان دونوں کا نام - یعنی حسن اور حسین کا - ہارون علیہ السلام کے دونوں بیٹوں شبر اور شبیر کے نام پر رکھا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ يَخْضِبُ بِالْوَسْمَةِ»
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ وسمہ سے خضاب لگایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ «سَمَّى ابْنَهُ الْأَكْبَرَ حَمْزَةَ، وَسَمَّى حُسَيْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّهِ، فَسَمَّاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے سب سے بڑے بیٹے کا نام حمزہ رکھا تھا، اور حسین کا نام اپنے چچا کے نام پر جعفر رکھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے نام حسن اور حسین رکھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَخْضِبانِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»
ترجمہ
عیزار بن حریث کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو مہندی اور کتم سے خضاب لگاتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ قَيْسٍ مَوْلَى خَبَّابٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يَخْضِبَانِ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
قیس، جو سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو کالے رنگ سے خضاب لگاتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: «قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً، وَكَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»
ترجمہ
ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن سنہ اکسٹھ ہجری میں شہید کر دیے گئے، اس وقت ان کی عمر اٹھاون برس تھی، اور وہ مہندی اور کتم سے خضاب لگایا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «قُتِلَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ، وَلَهَا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمَاتَ لَهَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَمَاتَ لَهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ»
ترجمہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ باون برس کی عمر میں شہید ہوئے، اسی عمر میں سیدنا حسین بن علی شہید ہوئے، اور اسی عمر میں علی بن حسین کا انتقال ہوا، اور اسی عمر میں محمد بن علی بن حسین کا انتقال ہوا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَهْدِيَّ سَأَلَ جَعْفَرًا: كَمْ كَانَ لِعَلِيٍّ حِينَ قُتِلَ؟ قَالَ: «ثَمَانٍ وَخَمْسُونَ، وَلَهَا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ»
ترجمہ
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: میں نے (خلیفہ) مہدی کو جعفر سے پوچھتے سنا: علی رضی اللہ عنہ جب شہید ہوئے تو ان کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: ”اٹھاون برس، اور اسی عمر میں سیدنا حسین بن علی شہید ہوئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
عیزار بن حریث کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کالے رنگ سے خضاب لگاتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُزُرْجَ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابْنَيْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَخْضِبَانِ بِالسَّوَادِ، وَكَانَ الْحُسَيْنُ يَدَعُ الْعَنْفَقَةَ»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن بزرج کہتے ہیں: ”میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹوں، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما، کو کالے رنگ سے خضاب لگاتے دیکھا، اور سیدنا حسین اپنی ٹھوڑی کے نیچے کے بالوں کو خضاب سے چھوڑ دیتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ وَفِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ خَضَبَ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
شعبی کہتے ہیں: ”میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کالے رنگ سے خضاب لگایا ہوا تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کالے رنگ سے خضاب لگایا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
سعید مقبری کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کالے رنگ سے خضاب لگاتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، أَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ «أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ»
ترجمہ
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کالے رنگ سے خضاب لگایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَا: «رَأَيْنَا الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْضِبُ بِالْوَسْمَةِ»
ترجمہ
عمر بن عطاء بن ابی خوار اور عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: ”ہم نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو وسمہ سے خضاب لگاتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْخَيَّاطُ الَّذِي قَطَعَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَمِيصًا، قَالَ: قُلْتُ: أَجْعَلُهُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ؟ قَالَ: «لَا» . قُلْتُ: فَأَجْعَلُهُ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ؟ فَقَالَ: «مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ»
ترجمہ
خیاط، جس نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لیے قمیض کاٹی، کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: کیا میں اسے پاؤں کے اوپری حصے تک بناؤں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے ٹخنوں سے نیچے تک بناؤں؟ فرمایا: ”جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْتَقِيمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَوَارِبَ خَزٍّ مَنْصُوبٍ، ورَأَيْتُهُمَا يَرْكَبَانِ الْبَرَاذِينَ التِّجَارِيَّةَ»
ترجمہ
مستقیم بن عبدالملک کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے پاؤں میں کھڑے ہونے والے خز (ریشم آمیز کپڑے) کے موزے دیکھے، اور میں نے انہیں تجارتی نسل کے گھوڑوں پر سوار دیکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ كِسَاءَ خَزٍّ أَحْمَرَ»
ترجمہ
عیزار بن حریث کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر سرخ خز کی چادر دیکھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ، قَالَا: ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ قَدْ خَرَجَ شَعْرُهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ»
ترجمہ
سدی کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان پر خز کا عمامہ تھا اور ان کے بال عمامے کے نیچے سے نکل رہے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ وَفِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَيْهِ ثَوْبُ خَزٍّ»
ترجمہ
شعبی کہتے ہیں: ”میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان پر خز کا کپڑا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا طَاهِرُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي الْيَسَارِ»
ترجمہ
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنی انگوٹھی بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى الْحُسَيْنِ يَوْمَ قُتِلَ يَلْمَقَ سُنْدُسٍ»
ترجمہ
ابوعکاشہ ہمدانی کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے دن ریشمی جبہ پہنے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: " كَانَ الْحُسَيْنُ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ، فَأَوْسَعَ النَّاسُ لَهُ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا فِرَاسٍ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ:
[البحر البسيط]
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ ... وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ
هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللهِ كُلِّهِمُ ... هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ
يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانَ رَاحَتِهِ ... رُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ
إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ... إِلَى مَكارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرْمُ
يُغْضِي حَيَاءً ويُغْضَى مِنْ مَهابَتِهِ ... فَمَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ
فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبَقٌ ... بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ
مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ نَبْعَتُهُ ... طَابَتْ عَناصِرُهُ وَالْخَيْمُ وَالشِّيَمُ
لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بَعْدَ غَايَتِهِمْ ... وَلَا يُدانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرُمُوا
أَيُّ الْعَشائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ... لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوْ لَهُ نِعَمُ "
[البحر البسيط]
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ ... وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ
هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللهِ كُلِّهِمُ ... هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ
يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانَ رَاحَتِهِ ... رُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ
إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ... إِلَى مَكارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرْمُ
يُغْضِي حَيَاءً ويُغْضَى مِنْ مَهابَتِهِ ... فَمَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ
فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبَقٌ ... بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ
مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ نَبْعَتُهُ ... طَابَتْ عَناصِرُهُ وَالْخَيْمُ وَالشِّيَمُ
لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بَعْدَ غَايَتِهِمْ ... وَلَا يُدانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرُمُوا
أَيُّ الْعَشائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ... لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوْ لَهُ نِعَمُ "
ترجمہ
سلیمان بن ہیثم کہتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دینا چاہا، تو لوگوں نے ان کے لیے راستہ کھول دیا، جبکہ فرزدق بن غالب انہیں دیکھ رہا تھا، تو ایک شخص نے پوچھا: اے ابوفراس! یہ کون ہیں؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے:
یہ وہ ہستی ہیں جن کے قدموں کو بطحاء پہچانتی ہے، اور بیت اللہ انہیں پہچانتا ہے، اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی۔
یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، یہ پرہیزگار، پاکیزہ، پاک اور ممتاز ہستی ہیں۔
رکنِ حطیم گویا انہیں پہچان کر تھام لینا چاہتا ہے، جب وہ اسے چھوتے ہیں۔
جب قریش انہیں دیکھتی ہے تو ان میں سے کوئی کہنے والا کہہ اٹھتا ہے: بزرگی کی انتہا اسی کی بزرگیوں پر ہوتی ہے۔
وہ حیا سے اپنی نگاہ جھکائے رکھتے ہیں، اور ان کی ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں، تو ان سے بات نہیں کی جاتی مگر جب وہ مسکرائیں۔
ان کے ہاتھ میں ایک عصا ہے جس کی خوشبو مہک رہی ہے، ایک بارعب ہستی کے ہاتھ میں، جن کی ناک میں وقار جھلکتا ہے۔
ان کی شاخ رسول اللہ ﷺ سے پھوٹی ہے، ان کے عناصر، فطرت اور اخلاق پاکیزہ ہیں۔
کوئی سخی ان کی حد کو نہیں پہنچ سکتا، اور کوئی قوم ان کے قریب نہیں آ سکتی خواہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو۔
کون سا قبیلہ ایسا ہے جس کی گردن پر ان کی برتری کا احسان نہ ہو، یا جسے ان کی نعمتیں حاصل نہ ہوں؟
یہ وہ ہستی ہیں جن کے قدموں کو بطحاء پہچانتی ہے، اور بیت اللہ انہیں پہچانتا ہے، اور حرم اور حرم سے باہر کا علاقہ بھی۔
یہ اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، یہ پرہیزگار، پاکیزہ، پاک اور ممتاز ہستی ہیں۔
رکنِ حطیم گویا انہیں پہچان کر تھام لینا چاہتا ہے، جب وہ اسے چھوتے ہیں۔
جب قریش انہیں دیکھتی ہے تو ان میں سے کوئی کہنے والا کہہ اٹھتا ہے: بزرگی کی انتہا اسی کی بزرگیوں پر ہوتی ہے۔
وہ حیا سے اپنی نگاہ جھکائے رکھتے ہیں، اور ان کی ہیبت سے دوسروں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں، تو ان سے بات نہیں کی جاتی مگر جب وہ مسکرائیں۔
ان کے ہاتھ میں ایک عصا ہے جس کی خوشبو مہک رہی ہے، ایک بارعب ہستی کے ہاتھ میں، جن کی ناک میں وقار جھلکتا ہے۔
ان کی شاخ رسول اللہ ﷺ سے پھوٹی ہے، ان کے عناصر، فطرت اور اخلاق پاکیزہ ہیں۔
کوئی سخی ان کی حد کو نہیں پہنچ سکتا، اور کوئی قوم ان کے قریب نہیں آ سکتی خواہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو۔
کون سا قبیلہ ایسا ہے جس کی گردن پر ان کی برتری کا احسان نہ ہو، یا جسے ان کی نعمتیں حاصل نہ ہوں؟
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ نَجَبَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «أَمَّا حَسَنٌ فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخُوَانٍ، وفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةَ عُصْفُورٍ. وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَصَاحِبُ لَهْوٍ وَظِلٍّ وَبَاطِلٍ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ، وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ فَأَنَا وَحُسَيْنٌ، فَإِنَّا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا، وَاللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَيْكُمْ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ، وَفَسادِكِمْ فِي أَرْضِكُمْ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وخِيانِتِكُمْ، وبِطَوَاعِيَتِهِمْ إِمَامَهُمْ ومَعْصِيَتِكُمْ لَهُ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ، وتَفَرُّقِكُمْ عَلَى حَقِّكُمْ، حَتَّى تَطُولَ دَوْلَتُهُمْ، حَتَّى لَا يَدَعُوا لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ، وَلَا يَبْقَى مَدَرٌ وَلَا وَبَرٌ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ، إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهُ سَبَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غِنًى أَحْسَنَكُمْ بِاللهِ ظَنًّا، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللهُ بِعافِيَةٍ فَاقْبَلُوا، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا، فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ»
ترجمہ
مسیب بن نجبہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنے خاص لوگوں اور اپنے اہل بیت کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”حسن تو دسترخوان اور کھانے کے پیالے والا انسان ہے، نوجوانوں میں سے ایک نوجوان، اور اگر زینِ اونٹ کے دونوں حلقے آپس میں مل جائیں (یعنی جنگ سخت ہو جائے) تو وہ جنگ میں تمہارے کسی کام نہ آئے گا، ایک چڑیا کے پھندے کے برابر بھی نہیں۔ رہا عبداللہ بن جعفر، تو وہ کھیل کود، آرام اور بےمقصد چیزوں والا انسان ہے، اور عباس کے دونوں بیٹے تمہیں دھوکہ نہ دیں۔ رہا میں اور حسین، تو میں میں ہوں اور حسین حسین ہے، ہم تم میں سے ہیں اور تم ہم میں سے ہو۔ اللہ کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اپنی سرزمین میں اپنی نیکی، اور تمہاری سرزمین میں تمہاری خرابی کے سبب تم پر غالب کر دیے جائیں گے، اور اپنی امانت داری اور تمہاری خیانت کے سبب، اور اپنے امام کی اطاعت اور تمہاری نافرمانی کے سبب، اور اپنے باطل پر ان کے اتحاد اور تمہارے حق پر تمہارے انتشار کے سبب، یہاں تک کہ ان کی حکومت طویل ہو جائے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ کی حرام کردہ کوئی چیز نہیں چھوڑیں گے مگر اسے حلال کر لیں گے، اور کوئی مٹی کا گھر ہو یا بالوں کا خیمہ، ہر جگہ ان کا ظلم پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے ہر ایک ان کا پیروکار بن جائے گا، اور یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی ان کی حمایت اس غلام کی حمایت جیسی ہو جائے گی جو اپنے آقا کے سامنے ہو تو اس کی اطاعت کرے، اور جب وہ غائب ہو تو اسے گالیاں دے، اور یہاں تک کہ تم میں سے سب سے زیادہ مالدار وہی ہو گا جس کا اللہ کے بارے میں گمان سب سے اچھا ہو۔ تو اگر اللہ تمہیں عافیت دے تو قبول کرو، اور اگر تمہیں آزمایا جائے تو صبر کرو، کیونکہ انجام متقین ہی کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفْرِيُّ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرُوا أَهْلَ بَيْتِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَمَّا الْحَسَنُ فَلَا يُغْنِي عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةَ عُصْفُورٍ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَصَاحِبُ ظِلٍّ وَخُوَانٍ، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَإِنَّهُ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ»
ترجمہ
مسیب بن نجبہ فزاری کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ لوگوں نے آپ کے اہل بیت کا ذکر کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رہا حسن، تو وہ جنگ میں تمہارے کسی کام نہ آئے گا، ایک چڑیا کے پھندے کے برابر بھی نہیں، اور رہا عبداللہ بن جعفر، تو وہ آرام اور دسترخوان والا انسان ہے، اور رہا حسین، تو وہ تم میں سے ہے اور تم اس میں سے ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجَبٍ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَتْ مِنْهُ، وَاسْتُخْلِفَ يَزِيدُ سَنَتَيْنِ، وَفِي سَنَةِ إِحْدَى وَسِتِّينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لِعَشْرِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنَ الْمُحَرَّمِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَقُتِلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُمُّهُ أُمُّ الْبَنِينَ عَامِرِيَّةٌ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُمُّهُ لَيْلَى بِنْتُ مَسْعُودٍ نَهْشَلِيَّةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْأَكْبَرُ، وَأُمُّهُ لَيْلَى ثَقَفِيَّةٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَأُمُّهُ الرَّبَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ كَلْبِيَّةٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحَسَنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ، وَعَبْدُ اللهِ رَضِيعُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
لیث بن سعد کہتے ہیں: ”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رجب کے مہینے میں، اس کی چار راتیں گزرنے پر وفات پا گئے، اور یزید دو سال خلیفہ رہا، اور سنہ اکسٹھ ہجری میں، محرم کی دس راتیں گزرنے پر، عاشوراء کے دن، سیدنا حسین بن علی اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم شہید کر دیے گئے، اور عباس بن علی بن ابی طالب شہید ہوئے، ان کی والدہ ام البنین عامریہ تھیں، اور جعفر بن علی بن ابی طالب، اور عبداللہ بن علی بن ابی طالب، اور عثمان بن علی بن ابی طالب، اور ابوبکر بن علی بن ابی طالب، ان کی والدہ لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ تھیں، اور علی بن حسین بن علی بن ابی طالب اکبر، ان کی والدہ لیلیٰ ثقفیہ تھیں، اور عبداللہ بن حسین، ان کی والدہ ربّاب بنت امرئ القیس کلبیہ تھیں، اور ابوبکر بن حسین، جو ایک باندی ماں سے تھے، اور قاسم بن حسن، جو ایک باندی ماں سے تھے، اور عون بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب، اور جعفر بن عقیل بن ابی طالب، اور مسلم بن عقیل بن ابی طالب، اور سلیمان، سیدنا حسین کے آزاد کردہ غلام، اور عبداللہ، سیدنا حسین کا دودھ پیتا بچہ، رضی اللہ عنہم۔ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اٹھاون برس کی عمر میں شہید کیے گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اٹھاون برس کی عمر میں شہید کیے گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: كَانَ إِذَا ذُكِرَ قَتْلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: «لَقَدْ قُتِلَ مَعَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ مِمَّنِ ارْتَكَضَ فِي رَحِمِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ»
ترجمہ
منذر ثوری کہتے ہیں: جب محمد بن حنفیہ کے سامنے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر ہوتا تو وہ فرماتے: ”ان کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے رحم سے جنم لینے والوں میں سے سترہ افراد شہید ہوئے۔“
…