المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَنَزَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْكَبٌّ، وَلَعِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، وَمَا لِي لَا أُحِبُّ ابْنِي» . قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ مِنْ بَعْدِكَ. فَمَدَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَدَهُ، فَأَتَاهُ بِتُرْبَةٍ بَيْضَاءَ، فَقَالَ: فِي هَذِهِ الْأَرْضِ يُقْتَلُ ابْنُكَ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، وَاسْمُهَا الطَّفُّ. فَلَمَّا ذَهَبَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتُّرْبَةُ فِي يَدِهِ يَبْكِي، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ ابْنِي مَقْتُولٌ فِي أَرْضِ الطَّفِّ، وَأَنَّ أُمَّتِي سَتُفْتَتَنُ بَعْدِي» . ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عَلِيٌّ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَحُذَيْفَةُ وَعَمَّارٌ وَأَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا: مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: «أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ ابْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بَعْدِي بِأَرْضِ الطَّفِّ، وَجَاءَنِي بِهَذِهِ التُّرْبَةِ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا مَضْجَعَهُ»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (حسین رضی اللہ عنہ بچپن میں) رسول اللہ ﷺ پر، جب آپ سجدے کی حالت میں جھکے ہوئے تھے، اچھل کر چڑھ گئے اور آپ کی پیٹھ پر کھیلنے لگے۔ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے محمد! کیا آپ اسے محبوب رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل، مجھے کیا ہوا کہ میں اپنے بیٹے سے محبت نہ کروں۔“ جبریل نے کہا: آپ کی امت عنقریب آپ کے بعد اسے قتل کرے گی۔ پھر جبریل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سفید مٹی لے آئے اور فرمایا: اے محمد! اسی زمین میں آپ کا یہ بیٹا قتل کیا جائے گا، اور اس کا نام طف ہے۔ جب جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، مٹی آپ کے ہاتھ میں تھی اور آپ رو رہے تھے، اور فرمایا: ”اے عائشہ! جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین سرزمینِ طف میں قتل کیا جائے گا، اور میری امت میرے بعد فتنے میں مبتلا ہوگی۔“ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف نکلے، جن میں علی، ابوبکر، عمر، حذیفہ، عمار اور ابوذر رضی اللہ عنہم شامل تھے، اور آپ رو رہے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد سرزمینِ طف میں قتل کیا جائے گا، اور وہ میرے پاس یہ مٹی لائے ہیں، اور مجھے خبر دی ہے کہ اسی میں اس کی آرام گاہ ہے۔“