حدیث نمبر: 2807
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسِي بِالْبَابِ، وَلَا يَلِجَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقُمْتُ بِالْبَابِ، إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ، فَسَبَقَنِي الْغُلَامُ، فَدَخَلَ عَلَى جَدِّهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ، أَمَرْتَنِي أَنْ لَا يَلِجَ عَلَيْكَ أَحَدٌ، وَإِنَّ ابْنَكَ جَاءَ، فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَسَبَقَنِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَطَلَّعْتُ مِنَ الْبَابِ، فَوَجَدْتُكَ تُقَلِّبُ بِكَفَّيْكَ شَيْئًا وَدُمُوعُكَ تَسِيلُ، وَالصَّبِيُّ عَلَى بَطْنِكَ. قَالَ: «نَعَمْ، أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَهُ، وَأَتَانِي بِالتُّرْبَةِ الَّتِي يُقْتَلُ عَلَيْهَا، فَهِيَ الَّتِي أُقَلِّبُ بِكَفَّيَّ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے پر بیٹھ جاؤ، میرے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے۔“ میں دروازے پر کھڑی ہو گئی، اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ آگئے۔ میں انہیں روکنے کے لیے بڑھی مگر وہ بچہ مجھ سے آگے نکل گیا اور اپنے نانا کے پاس اندر چلا گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ کوئی اندر نہ آئے، اور آپ کا یہ بیٹا آگیا، میں نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ آگے نکل گیا۔ جب دیر ہوئی تو میں نے دروازے سے جھانکا تو دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلیوں میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں، اور بچہ آپ کے پیٹ پر (بیٹھا) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میرے پاس جبریل آئے، انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت اسے قتل کرے گی، اور میرے پاس وہ مٹی لائے جس پر یہ قتل ہوگا، یہی وہ مٹی ہے جسے میں اپنی ہتھیلیوں میں الٹ پلٹ رہا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 109، حدیث 2820