المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ ". فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی نہ آئے۔“ میں انتظار کرتی رہی کہ اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ اندر آگئے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی سسکیوں کی آواز سنی کہ آپ رو رہے ہیں، تو میں نے جھانک کر دیکھا تو حسین آپ کی گود میں تھے اور نبی کریم ﷺ ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ کب اندر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے، انہوں نے کہا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دنیا کی حد تک تو ہاں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اسے ایک ایسی سرزمین میں قتل کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔“ پھر جبریل علیہ السلام نے اس کی مٹی میں سے کچھ لے کر نبی کریم ﷺ کو دکھائی۔ پھر جب حسین کو (شہادت کے وقت) گھیر لیا گیا تو انہوں نے پوچھا: اس زمین کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: کربلا۔ تو فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ کرب و بلا کی سرزمین ہے۔