❮
❯
حدیث نمبر: 2793
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: أَبَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ يُسْتَأْسَرَ، فَقاتَلُوهُ فَقَتَلُوهُ، وَقَتَلُوا ابْنَيْهِ وَأَصْحَابَهُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مِنْهُ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ الطَّفُّ، وَانْطُلِقَ بِعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، وَسُكَيْنَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ قَدْ بَلَغَ، فَبَعَثَ بِهِمْ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَمَرَ بِسُكَيْنَةَ فَجَعَلَهَا خَلْفَ سَرِيرِهِ لِئَلَّا تَرَى رَأْسَ أَبِيهَا وَذَوِي قَرابَتِهَا، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي غُلٍّ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ، فَضَرَبَ عَلَى ثَنِيَّتَيِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:
[البحر الطويل]
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا
فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرٌ} [الحديد: ٢٢] . فَثَقُلَ عَلَى يَزِيدَ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ، وَتَلَا عَلِيٌّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ يَزِيدُ: بَلْ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ويَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَمَا وَاللهِ لَوْ رَآنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْلُولِينَ لَأَحَبَّ أَنْ يُخَلِّيَنَا مِنَ الْغُلِّ» . قَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلُّوهُمْ مِنَ الْغُلِّ. قَالَ: «وَلَوْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بُعْدٍ لَأَحَبَّ أَنْ يُقَرِّبَنَا» . قَالَ: صَدَقْتَ، فَقَرِّبُوهُمْ. فَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ وَسُكَيْنَةُ يَتَطَاوَلَانِ لِتَرَيَا رَأْسَ أَبِيهِمَا، وَجَعَلَ يَزِيدُ يَتَطَاوَلُ فِي مَجْلِسِهِ لِيَسْتُرَ عَنْهُمَا رَأْسَ أَبِيهِمَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَجُهِّزُوا، فَأَصْلَحَ إِلَيْهِمْ، وَأُخْرِجُوا إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ

لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے قیدی بننے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے ان سے جنگ کی اور انہیں شہید کر دیا، اور ان کے دونوں بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کو بھی، جنہوں نے ان کی طرف سے لڑائی کی تھی، ایک ایسی جگہ پر شہید کر دیا جسے طف کہا جاتا ہے۔ اور سیدنا علی بن حسین، سیدہ فاطمہ بنت حسین اور سیدہ سکینہ بنت حسین کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جایا گیا، اور علی اس وقت بالغ ہو چکے ایک نوجوان تھے، تو اس نے انہیں یزید بن معاویہ کے پاس بھیج دیا، تو اس نے سکینہ کے بارے میں حکم دیا اور انہیں اپنے تخت کے پیچھے کر دیا تاکہ وہ اپنے والد اور رشتہ داروں کا سر نہ دیکھ سکے، اور سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما اس وقت زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ پھر اس (یزید) نے ان (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کا سر (سامنے) رکھا، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دو دانتوں پر (چھڑی) ماری اور کہا: ہم اپنے محبوب لوگوں کے سر پھاڑ دیتے ہیں، حالانکہ وہ ہم پر سب سے زیادہ نافرمان اور ظالم تھے۔

تو سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ آیت تلاوت کی: ”کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں، مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، بے شک یہ اللہ پر آسان ہے“ [سورۃ الحدید: 22]۔ یزید کو یہ بات گراں گزری کہ اس نے تو ایک شعر سے مثال دی تھی اور سیدنا علی نے اس کے جواب میں اللہ عزوجل کی کتاب سے ایک آیت تلاوت کر دی، تو یزید نے کہا: ”بلکہ یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہے، اور وہ بہت کچھ معاف کر دیتا ہے“ [سورۃ الشوریٰ]۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سن لو، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ ﷺ ہمیں زنجیروں میں جکڑا دیکھتے تو پسند کرتے کہ ہمیں زنجیروں سے آزاد کر دیا جائے۔“ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، تو انہیں زنجیروں سے آزاد کر دو۔ فرمایا: ”اور اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے دور کھڑے ہوتے تو آپ پسند کرتے کہ ہمیں قریب کر لیا جائے۔“ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، تو انہیں قریب کرو۔ تو سیدہ فاطمہ اور سیدہ سکینہ اپنے والد کا سر دیکھنے کے لیے اونچی ہونے لگیں، اور یزید اپنی مجلس میں اونچا ہونے لگا تاکہ ان دونوں سے ان کے والد کا سر چھپا سکے۔ پھر اس نے حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کیا جائے، تو اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، اور انہیں مدینہ کی طرف روانہ کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2793
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 104، حدیث 2806