حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِحُسينٍ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا، واسْتَمَرَّتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالمَرْعَى الْوَبِيلِ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ، لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللهِ، وَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بُرْمًا» . وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ
ترجمہ

محمد بن حسن بیان کرتے ہیں: جب عمر بن سعد حسین کے مقابل اتر آیا، اور حسین کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ انہیں قتل کر کے رہیں گے، تو وہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”جو معاملہ تم دیکھ رہے ہو وہ پیش آچکا ہے، بے شک دنیا بدل چکی ہے اور اجنبی ہو گئی ہے، اس کی بھلائی پیٹھ پھیر چکی ہے، اور یہ مسلسل ایسے ہی چلی جا رہی ہے کہ اس میں سے صرف برتن کی تہہ میں بچی ہوئی تلچھٹ کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، سوائے ایک ذلیل زندگی کے جیسے زہریلی چراگاہ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جاتا، اور باطل سے روکا نہیں جاتا؟ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی رغبت رکھے۔ اور میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو تنگی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔“ اور حسین رضی اللہ عنہ عاشوراء کے دن، اکسٹھ ہجری میں، طف کے مقام کربلا میں شہید کیے گئے، اس وقت آپ کے جسم پر خز کی مٹیالے رنگ کی جبہ تھی، اور آپ نے بالوں کو سیاہ خضاب لگا رکھا تھا، اور آپ کی عمر چھپن برس تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 114، حدیث 2842