حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَزَرَةَ، عَنْ أَبِي حِبَرَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ؟» قَالُوا: إِذًا نُبْلِيَ اللهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا. فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْزِلُنَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ، ولَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ» . ثُمَّ أَقْبَلَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
هُمُ أَوْرَدُوهُمْ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا ... أَحَبُّوا نَجَاةً لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا
ترجمہ

ابوحبرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ کوفہ پہنچے، تو منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان اترے گی؟“ لوگوں نے کہا: تب تو اللہ ہمیں ان کے بارے میں اچھی آزمائش دے گا۔ آپ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ضرور تمہارے درمیان اترے گی، اور تم ضرور ان کی طرف نکلو گے، پھر تم انہیں قتل کر دو گے۔“ پھر آپ یہ شعر پڑھنے لگے: ”انہیں دشمن دھوکے سے موت کے گھاٹ لے گئے پھر خود بھاگ کھڑے ہوئے، انہوں نے ایسی نجات چاہی جس میں نہ نجات ہے نہ کوئی عذر۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2810
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2823