المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، نا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كُرْدُوسٍ، عَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: " دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارٌ، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ "ترجمہ
عبیداللہ بن زیاد کے دربان بیان کرتے ہیں: میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے محل میں داخل ہوا، جب حسین قتل کیے جا چکے تھے، تو اس کے چہرے پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، اس نے اپنی آستین سے اپنے چہرے کو یوں ڈھانپ لیا۔ پھر اس نے کہا: کیا تم نے دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ تو اس نے مجھے حکم دیا کہ اسے چھپائے رکھوں۔