حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ» . فَأُحْصِيَ ذَلِكَ الْيَوْمُ، فَوُجِدَ قَدْ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ پراگندہ حال اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج سے مسلسل اسے چن رہا ہوں۔“ پھر اس دن کا حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اسی دن وہ شہید کیے گئے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2809
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 110، حدیث 2822