أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی اور وہ پانچ چیزوں سے بنتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: ثنا عَامِرٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٠٢⦘ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ: الزَّبِيبُ بَدَلُ الْعِنَبِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ حَمَّادٌ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَشَارَ إِلَى رِوَايَةِ حَمَّادٍ، وَذَكَرَ رِوَايَةَ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے منبر پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اللہ کی تعریف کی اور ثنا بیان کی، پھر کہا: «أَمَّا بَعْدُ» ”شراب کی حرمت جس دن نازل ہوئی (سو نازل ہو گئی)، اور شراب پانچ چیزوں سے بنتی ہے: (1) انگور سے، (2) کھجور، (3) شہد، (4) گندم اور (5) جو؛ اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مُوسَى بْنُ حَيَّانَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي يَعْلَى، ثنا عَامِرٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَقَالَ الْحَسَنُ: ثنا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ أَبُو يَعْلَى: عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَامَ خَطِيبًا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهَا عَهِدَ انْتُهِيَ إِلَيْهِ: الْجَدُّ وَالْكَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِي السَّادِسَةِ تُصْنَعُ بِالسِّنْدِ يَدَّعِي الْجَاهِلُ يَشْرَبُ الرَّجُلُ مِنْهُ شَرْبَةً فَتَصْرَعُهُ، يُصْنَعُ مِنَ الْأَرْزِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ لَنَهَى عَنْهُ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَدْ عَمَّ الْأَشْرِبَةَ كُلَّهَا فَقَالَ: الْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلُ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَلَوْ كَانَ لَنَهَى عَنْهُ، إِلَى آخِرِهِ، فَإِنَّهُ مِمَّا قِيلَ لِلشَّعْبِيِّ، وَهُوَ الَّذِي أَجَابَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”خبردار! شراب کی حرمت جس دن نازل ہوئی (سو نازل ہو گئی)، اور شراب پانچ چیزوں سے بنتی ہے: انگور، کھجور، گندم، جو اور شہد سے؛ اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے۔ اے لوگو! تین باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے جدا نہ ہوتے یہاں تک کہ ان کے بارے میں ہمیں کوئی قطعی ہدایت دے جاتے جس پر ہم ٹھہر جاتے: دادا (کی وراثت)، کلالہ اور سود کے ابواب میں سے کچھ ابواب۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اس چھٹی (شراب) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو سندھ میں چاول سے بنائی جاتی ہے، جس کے بارے میں جاہل دعوے کرتا ہے، آدمی اس کا ایک گھونٹ پیتا ہے تو وہ اسے پچھاڑ دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نہیں تھی، اگر ہوتی تو آپ ﷺ اس سے ضرور منع فرماتے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ ﷺ نے تمام مشروبات کو شامل کرتے ہوئے فرمایا: شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے۔
ابوبکر (اسماعیلی) فرماتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ”اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے“ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔
ابوبکر (اسماعیلی) فرماتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ”اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے“ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کھجور سے بھی شراب بنتی ہے اور منقیٰ سے بھی شراب بنتی ہے اور گندم سے بھی شراب بنتی ہے اور جو سے بھی شراب بنتی ہے اور شہد سے بھی شراب بنتی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، وَهَذَا لَا يُخَالِفُ الْحَدِيثَ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”شراب پھلوں کے جوس سے بنتی ہے، اور منقیٰ سے، اور کھجور سے، اور گندم سے، اور جو سے، اور مکئی کے دانے سے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے فرمایا: ”شراب دو درختوں سے بنتی ہے: ۱۔ کھجور سے، ۲۔ انگور سے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ: فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَغَيْرِهِ، فَإِنَّهُ أَثْبَتَ الْخَمْرَ مِنْهُمَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَأَثْبَتَهَا مِنْهُمَا وَمِنْ غَيْرِهِمَا فِيمَا مَضَى، فَيُقَالُ بِجَمِيعِ مَا ثَبَتَ عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى مَا أَمْكَنَ الْجَمْعُ بَيْنَ جَمِيعِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كُنْتُ قَائِمًا عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ، وَهُمْ يَشْرَبُونَ يَوْمَئِذٍ شَرَابًا لَهُمْ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَلَا هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ؟ قَالُوا: يَا أَنَسُ اكْفَأْهَا، فَأَكْفَأْتُهَا، فَوَاللهِ مَا عَادُوا فِيهَا حَتَّى لَقُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا كَانَ شَرَابُهُمْ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ فِي الْحَلْقَةِ: كَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَمَا أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَنَسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے چچا کو کھڑا شراب پلا رہا تھا اور وہ اس دن شراب پی رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: اے انس! اس کو گرا دے۔ میں نے اس کو گرا دیا۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے کبھی شراب نہیں پی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ (سلیمان) کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان کی شراب کس چیز سے تھی؟ انہوں نے فرمایا: تر کھجور اور خشک کھجور سے۔ ابوبکر بن انس نے کہا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ مجلس میں موجود تھے: اس دن یہی ان کی شراب تھی، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحِيِّ أَسْقِيهِمْ، عَلَى عُمُومَتِي وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالُوا: اكْفِهَا يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهَا، فَقِيلَ لِأَنَسٍ: فَمَا كَانَ شَرَابُهُمْ؟ قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ شَاهِدٌ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَاكَ أَنَسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قبیلے والوں، یعنی اپنے چچاؤں کو کھڑا ان کی فضیخ (کچی کھجور کی شراب) پلا رہا تھا اور میں ان میں سب سے کم عمر تھا، کہ ایک آدمی آیا اور کہا: شراب حرام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا: اے انس! اسے گرا دو۔ تو میں نے اسے گرا دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ان کی شراب کیا تھی؟ فرمایا: تازہ پکی کھجور اور کچی کھجور۔ ابوبکر بن انس نے کہا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ موجود تھے: اس دن یہی ان کی شراب تھی، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُعْتَمِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
(سلیمان) کہتے ہیں: اور ہمارے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ اس نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اس دن یہی ان کی شراب تھی۔
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي الْعَبَّاسِ بْنِ حَمْدَانَ: حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ مِنْ خَلِيطِ بُسْرٍ وَتَمْرٍ إِذْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَرَفَعْتُهَا وَأَنَا سَاقِيهِمْ يَوْمَئِذٍ وَأَصْغَرُهُمْ، وَإِنَّا نَعُدُّهَا يَوْمَئِذٍ الْخَمْرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابو طلحہ، ابو دجانہ اور سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو نبیز پلا رہا تھا جو خشک اور تازہ کھجور سے تیار کی گئی تھی، جب شراب حرام ہوئی تو میں نے اسے بہا دیا اور میں اس دن پلا رہا تھا اور میں چھوٹا تھا اور ہم اس دن سے اسے ہی شراب شمار کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّزْجَاهِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِشْكِيبٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ خُمُورَ الْأَعْنَابِ إِلَّا الْقَلِيلَ، وَعَامَّةُ خَمْرِهِمُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو ہمیں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی، ان کی عام شراب کچی کھجور اور خشک کھجور سے ہوتی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٥٠٥⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ، يَعْنِي: لَمْ يَكُنْ بِالْمَدِينَةِ خَمْرُ الْعِنَبِ حِينَ حُرِّمَتْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت مدینہ میں اس میں سے کچھ بھی نہ تھا، یعنی جب شراب حرام ہوئی تو مدینہ میں انگوروں کی شراب نہیں تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي: خَلَفَ الْخِيَامَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَإِنَّ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ لَخَمْسَةُ أَشْرِبَةٍ، مَا فِيهَا شَرَابُ الْعِنَبِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس دن مدینہ میں پانچ قسم کی شراب تھی؛ وہاں پر انگوروں کی شراب نہ تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَفِي ⦗٥٠٦⦘ رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَعَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ سے شہد کی شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بتع کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ مشروب جو نشہ دے حرام ہے۔“ اور بتع شہد کی نبیذ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا قُرَّةُ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدَنَا أَشْرِبَةً، أَوْ شَرَابًا، هَذَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ، فَمَا تَأْمُرُنَا فِيهِمَا؟ فَقَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں کچھ مشروبات ہیں (یا ایک مشروب ہے): یہ بتع اور مزر جو مکئی اور جو سے بنتا ہے، آپ ہمیں ان دونوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يُصْنَعُ عِنْدَنَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ، وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ، وَهُمَا يُسْكِرَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں شہد سے ایک مشروب بنایا جاتا ہے جسے بتع کہتے ہیں اور جو سے ایک مشروب بنایا جاتا ہے جسے مزر کہتے ہیں، اور یہ دونوں نشہ دیتے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، أنبأ أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: " انْطَلِقَا فَادْعُوَا النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ: الْبِتْعُ مِنَ ⦗٥٠٧⦘ الْعَسَلِ نَنْبِذُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْمِزْرُ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ نَنْبِذُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، وَقَالَ: " أُحَرِّمُ كُلَّ مُسْكِرٍ عَنِ الصَّلَاةِ " قَالَ: " فَانْطَلَقْنَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے مجھے اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دو، آسانی پیدا کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا، خوش خبری دینا اور نفرت نہ دلانا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان دو مشروبات کے بارے میں فتویٰ دیجیے جو ہم یمن میں بناتے تھے: بتع جو شہد سے بنتا ہے، ہم اسے بھگو کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ تیز ہو جائے، اور مزر جو گندم، جو اور مکئی سے بنتا ہے، ہم اسے بھگو کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ تیز ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ کو جامع کلمات اور ان کے خاتمے عطا کیے گئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر اس نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتا ہوں جو نماز سے روک دے۔“ فرماتے ہیں: پھر ہم چل پڑے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ، وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَإِنَّ اللهَ عَهِدَ لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا، اور جیشان یمن میں ہے، اس نے نبی ﷺ سے اس مشروب کے بارے میں سوال کیا جو وہ اپنے علاقے میں مکئی سے بنا کر پیتے ہیں جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور اللہ نے عہد کیا ہے کہ جو نشہ آور چیز پیے گا وہ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ، یا جہنمیوں کا نچوڑ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَلَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَعْنِي آيَةً، ذَكَرَ فِيهَا الْخَمْرَ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو وَهْبٍ الْجَيْشَانِيُّ فَسَأَلَهُ عَنِ الْمِزْرِ، قَالَ: " وَمَا الْمِزْرُ؟ " قَالَ: شَيْءٌ يُصْنَعُ مِنَ الْحَبِّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " هَكَذَا جَاءَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد (طاؤس) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر وہ آیت تلاوت کی جو شراب کے بارے میں تھی، فرماتے ہیں: سیدنا ابو وہب جیشانی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ سے مزر کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مزر کیا ہے؟“ عرض کیا: ایک چیز ہے جو دانوں سے بنائی جاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ یہ مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: " هَلْ يُسْكِرُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَنِبُوهُ " ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَلْ يُسْكِرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَنِبُوهُ " ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، زیادہ کام کرنے کے لیے ہم گیہوں سے مشروب بناتے ہیں تاکہ ہم زیادہ کام کریں، ہمارے شہر میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں اسے آپ ﷺ کے سامنے لایا اور کہا کہ اس کی مثل ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں نے کہا: لوگ نہیں چھوڑتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ⦗٥٠٨⦘ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ وَهُوَ مَرْثَدٌ، عَنْ دَيْلَمٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ نَصْنَعُ بِهَا شَرَابًا مِنَ الْقَمْحِ، أَفَيَحِلُّ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ فَقَالَ: " أَلَيْسَ بِمُسْكِرٍ؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّهُ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا دیلم جیشانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، ہم اس میں کام کرتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے گندم کا مشروب حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ حرام ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ " ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُ لَهُ أَيْضًا، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ " ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کی بیوی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یمن سے آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ آئے، آپ ﷺ نے ان کو نماز سکھلائی اور سنن و فرائض سکھلائے۔ پھر انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم گندم سے شراب بناتے ہیں اور جو سے بھی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ پیو۔“ پھر انہوں نے دو دن کے بعد پھر یہ ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“ پھر انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ واپس جائیں، انہوں نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ " لَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ خُشَيْشٍ النَّقِيرُ.
حافظ ثناء اللہ
صعصعہ بن صوحان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں ان چیزوں سے روکیے جن سے رسول اللہ ﷺ نے آپ کو روکا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، لکڑی کے برتن سے، جعہ (جو کی شراب) سے، سونے کی انگوٹھی سے، ریشم پہننے سے، قسی (ریشمی دھاری دار کپڑے) سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔“ ابن خشیش کی حدیث میں لکڑی کے برتن کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، وَأَصْحَابِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجِعَةِ، وَالْجِعَةُ شَرَابٌ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ حَتَّى يُسْكِرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے «الْجِعَةِ» ”جعہ سے منع فرمایا۔“ اس سے مراد ایسی شراب جو جو سے بنی ہو یہاں تک کہ اس میں نشہ پیدا ہو جائے۔