السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: التشديد على من سقى صبيا خمرا باب: اس شخص پر سخت وعید کا بیان جس نے کسی بچے کو شراب پلائی ہو۔
حدیث نمبر: 17344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ: عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مُخَمَّرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لَا يَعْرِفُ حَلَالَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے، اور جو نشہ آور چیز پیتا ہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں، اگر چوتھی مرتبہ شراب پیے تو اللہ کو حق ہے کہ وہ اسے جہنمیوں کی پیپ پلائیں گے۔ ایسے ہی جو کسی ایسے چھوٹے بچے کو، جسے حلال و حرام کا پتہ نہیں، شراب پلائے تو اللہ اسے بھی جہنمیوں کی پیپ پلائیں گے۔“