السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ " ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُ لَهُ أَيْضًا، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ " ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " الْغُبَيْرَاءُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " لَا تَطْعَمُوهُ ".نبی کریم ﷺ کی بیوی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یمن سے آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ آئے، آپ ﷺ نے ان کو نماز سکھلائی اور سنن و فرائض سکھلائے۔ پھر انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم گندم سے شراب بناتے ہیں اور جو سے بھی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ پیو۔“ پھر انہوں نے دو دن کے بعد پھر یہ ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“ پھر انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ واپس جائیں، انہوں نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(کیا یہ) غبیراء (ہے)؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“