حدیث نمبر: 17366
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: " هَلْ يُسْكِرُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَنِبُوهُ " ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَلْ يُسْكِرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَنِبُوهُ " ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، زیادہ کام کرنے کے لیے ہم گیہوں سے مشروب بناتے ہیں تاکہ ہم زیادہ کام کریں، ہمارے شہر میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں اسے آپ ﷺ کے سامنے لایا اور کہا کہ اس کی مثل ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے بچو۔“ پھر میں نے کہا: لوگ نہیں چھوڑتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17366
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»