السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17367
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ⦗٥٠٨⦘ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ وَهُوَ مَرْثَدٌ، عَنْ دَيْلَمٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ نَصْنَعُ بِهَا شَرَابًا مِنَ الْقَمْحِ، أَفَيَحِلُّ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ فَقَالَ: " أَلَيْسَ بِمُسْكِرٍ؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّهُ حَرَامٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا دیلم جیشانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت ٹھنڈی زمین میں رہتے ہیں، ہم اس میں کام کرتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے گندم کا مشروب حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس میں نشہ نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ حرام ہے۔“