السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17353
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحِيِّ أَسْقِيهِمْ، عَلَى عُمُومَتِي وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالُوا: اكْفِهَا يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهَا، فَقِيلَ لِأَنَسٍ: فَمَا كَانَ شَرَابُهُمْ؟ قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ شَاهِدٌ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَاكَ أَنَسٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قبیلے والوں، یعنی اپنے چچاؤں کو کھڑا ان کی فضیخ (کچی کھجور کی شراب) پلا رہا تھا اور میں ان میں سب سے کم عمر تھا، کہ ایک آدمی آیا اور کہا: شراب حرام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا: اے انس! اسے گرا دو۔ تو میں نے اسے گرا دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ان کی شراب کیا تھی؟ فرمایا: تازہ پکی کھجور اور کچی کھجور۔ ابوبکر بن انس نے کہا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ موجود تھے: اس دن یہی ان کی شراب تھی، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا۔