السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كُنْتُ قَائِمًا عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ، وَهُمْ يَشْرَبُونَ يَوْمَئِذٍ شَرَابًا لَهُمْ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَلَا هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ؟ قَالُوا: يَا أَنَسُ اكْفَأْهَا، فَأَكْفَأْتُهَا، فَوَاللهِ مَا عَادُوا فِيهَا حَتَّى لَقُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا كَانَ شَرَابُهُمْ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ فِي الْحَلْقَةِ: كَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَمَا أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَنَسٌ ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے چچا کو کھڑا شراب پلا رہا تھا اور وہ اس دن شراب پی رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: اے انس! اس کو گرا دے۔ میں نے اس کو گرا دیا۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے کبھی شراب نہیں پی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ (سلیمان) کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان کی شراب کس چیز سے تھی؟ انہوں نے فرمایا: تر کھجور اور خشک کھجور سے۔ ابوبکر بن انس نے کہا، جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ مجلس میں موجود تھے: اس دن یہی ان کی شراب تھی، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا۔