السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17364
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ، وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَإِنَّ اللهَ عَهِدَ لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا، اور جیشان یمن میں ہے، اس نے نبی ﷺ سے اس مشروب کے بارے میں سوال کیا جو وہ اپنے علاقے میں مکئی سے بنا کر پیتے ہیں جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور اللہ نے عہد کیا ہے کہ جو نشہ آور چیز پیے گا وہ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ، یا جہنمیوں کا نچوڑ۔“