السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 17361
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا قُرَّةُ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدَنَا أَشْرِبَةً، أَوْ شَرَابًا، هَذَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ، فَمَا تَأْمُرُنَا فِيهِمَا؟ فَقَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں کچھ مشروبات ہیں (یا ایک مشروب ہے): یہ بتع اور مزر جو مکئی اور جو سے بنتا ہے، آپ ہمیں ان دونوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔“