السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مُوسَى بْنُ حَيَّانَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي يَعْلَى، ثنا عَامِرٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَقَالَ الْحَسَنُ: ثنا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ أَبُو يَعْلَى: عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَامَ خَطِيبًا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهَا عَهِدَ انْتُهِيَ إِلَيْهِ: الْجَدُّ وَالْكَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِي السَّادِسَةِ تُصْنَعُ بِالسِّنْدِ يَدَّعِي الْجَاهِلُ يَشْرَبُ الرَّجُلُ مِنْهُ شَرْبَةً فَتَصْرَعُهُ، يُصْنَعُ مِنَ الْأَرْزِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ لَنَهَى عَنْهُ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَدْ عَمَّ الْأَشْرِبَةَ كُلَّهَا فَقَالَ: الْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلُ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَلَوْ كَانَ لَنَهَى عَنْهُ، إِلَى آخِرِهِ، فَإِنَّهُ مِمَّا قِيلَ لِلشَّعْبِيِّ، وَهُوَ الَّذِي أَجَابَ بِهِ.سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”خبردار! شراب کی حرمت جس دن نازل ہوئی (سو نازل ہو گئی)، اور شراب پانچ چیزوں سے بنتی ہے: انگور، کھجور، گندم، جو اور شہد سے؛ اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے۔ اے لوگو! تین باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے جدا نہ ہوتے یہاں تک کہ ان کے بارے میں ہمیں کوئی قطعی ہدایت دے جاتے جس پر ہم ٹھہر جاتے: دادا (کی وراثت)، کلالہ اور سود کے ابواب میں سے کچھ ابواب۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اس چھٹی (شراب) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو سندھ میں چاول سے بنائی جاتی ہے، جس کے بارے میں جاہل دعوے کرتا ہے، آدمی اس کا ایک گھونٹ پیتا ہے تو وہ اسے پچھاڑ دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نہیں تھی، اگر ہوتی تو آپ ﷺ اس سے ضرور منع فرماتے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ آپ ﷺ نے تمام مشروبات کو شامل کرتے ہوئے فرمایا: شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے۔
ابوبکر (اسماعیلی) فرماتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ”اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ دے“ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔