کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان مشروبات کو پکانا انہیں شراب کے نام میں شامل ہونے سے خارج نہیں کرتا، اور اگر وہ نشہ آور ہوں تو ان کی حرمت برقرار رہتی ہے۔
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُخَرِّمِيِّ قَالَ: عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
آپ ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ شراب جس میں نشہ ہو حرام ہے“ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17371
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَأَبِي كَامِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں فوت ہو گیا کہ وہ ہمیشہ شراب پیتا تھا اور اس نے اس سے توبہ نہیں کی تھی، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پی سکے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17372
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَالصَّغَانِيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17373
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ⦗٥١٠⦘ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور راوی کہتے ہیں: میں اسے نبی ﷺ ہی سے (مروی) جانتا ہوں، کہ فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17374
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الدَّوْلَابِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " قَالَ أَحْمَدُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ رَوْحٌ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
احمد کہتے ہیں: روح نے ہمیں یہ اسی طرح مرفوع بیان کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " كَذَا رَوَاهُ سَائِرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكٍ مَوْقُوفًا، غَيْرُ رَوْحٍ فَإِنَّهُ رَفَعَهُ فِي رِوَايَةِ الدَّوْلَابِيِّ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر نشے والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
امام مالک کے باقی تمام شاگردوں نے اسے امام مالک سے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے، سوائے روح کے، کیونکہ انہوں نے دولابی کی روایت میں اسے مرفوع بیان کیا ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17376
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا: " بَشِّرَا، وَيَسِّرَا، وَعَلِّمَا، وَلَا تُنَفِّرَا " وَأُرَاهُ قَالَ: " وَتَطَاوَعَا " قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ، وَالْمِزْرَ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان دونوں سے فرمایا: ”خوش خبری دینا اور آسانی کرنا اور علم سکھانا اور لوگوں کو نفرت نہ دلانا۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اور آپس میں اتفاق رکھنا۔“ جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ لوٹے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کے ہاں شہد کی شراب ہوتی ہے جسے وہ پکاتے ہیں اور مزر ہے جو جو سے بنایا جاتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جو نشہ دے کر نماز سے روک دے وہ حرام ہے۔“
اس کو مسلم نے محمد بن عباد سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17377
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ، قَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْبَاذَقَ، مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ لَا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، قَالَ: لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الجویریہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بازق کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ محمد ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے: ”جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ فرماتے ہیں: پاکیزہ حلال مشروب (پیو)، نہ کہ حرام اور خبیث۔
محمد بن کثیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: پاکیزہ حلال مشروب، فرمایا: پاکیزہ حلال کے بعد صرف حرام اور خبیث ہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17378
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ، فَقَالَ: " سَبَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ مَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ: قُلْتُ: أَفْتِنِي رَحِمَكَ اللهُ فِي الْبَاذَقِ وَإِنَّا نَشْرَبُهُ، قَالَ: " سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَاذَقِ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْعِنَبِ فَنَعْصِرُهُ ثُمَّ نَطْبُخُهُ حَتَّى يَكُونَ حَلَالًا طَيِّبًا، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ اشْرَبِ الْحَلَالَ الطَّيِّبَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الجویریہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے: جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے بازق کے بارے میں فتویٰ دیجیے، ہم اسے پیتے ہیں۔ فرمایا: ”محمد ﷺ بازق سے پہلے ہی (حکم دے) گئے، اور جو چیز نشہ دے وہ حرام ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم انگور لے کر انہیں نچوڑتے ہیں، پھر اسے پکاتے ہیں یہاں تک کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! حلال اور پاکیزہ پیو، کیونکہ حلال اور پاکیزہ کے بعد صرف حرام اور خبیث ہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَرْوَانَ النَّسَائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَتَاهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَاشْتِرَائِهِ، وَالتِّجَارَةِ فِيهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهُ، وَلَا شِرَاؤُهُ، وَلَا التِّجَارَةُ فِيهِ لِمُسْلِمٍ، إِنَّمَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُمْ مَثَلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَلَمْ يَأْكُلُوهَا فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، ثُمَّ سَأَلُوا عَنِ الطِّلَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا طِلَاؤُكُمْ هَذَا؟ إِذَا سَأَلْتُمُونِي فَبَيِّنُوا لِيَ الَّذِي تَسْأَلُونِي عَنْهُ، قَالُوا: هُوَ الْعِنَبُ يُعْصَرُ ثُمَّ يُطْبَخُ ثُمَّ يُجْعَلُ فِي الدِّنَانِ، قَالَ: وَمَا الدِّنَانُ؟ قَالُوا: دِنَانٌ مُقَيَّرَةٌ، قَالَ: مُزَفَّتَةٌ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَيُسْكِرُ؟ قَالُوا: إِذَا أُكْثِرَ مِنْهُ أَسْكَرَ، قَالَ: فَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”مسلمان ہو؟“ کہا: ”ہاں۔“ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس کی تجارت صحیح نہیں ہے۔“ اور فرمایا: ”بنی اسرائیل پر چربی حرام کی گئی تھی تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو کھایا۔“ انہوں نے پھر کہا: «طِلَاء» کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”یہ «طِلَاء» کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ انگور کو نچوڑ کر اسے پکایا جاتا ہے، پھر اسے «دِنَان» میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پوچھا: ”«دِنَان» کیا ہے؟“ کہا: یہ ایک تارکول لگا ہوا مٹکا ہے۔ پوچھا: ”کیا اس میں نشہ ہوتا ہے؟“ کہا: جب زیادہ ہو تو نشہ ہو جاتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17380
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الطِّلَاءِ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «طِلَاءٍ» کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: آگ نہ کسی چیز کو حلال کرتی ہے اور نہ حرام۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17381
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ الْوَعْلَانِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ، حَجَّ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَتْ تَسْأَلُهُ عَنِ الشَّامِ وَعَنْ بَرْدِهَا، فَجَعَلَ يُخْبِرُهَا، فَقَالَتْ: كَيْفَ تَصْبِرُونَ عَلَى بَرْدِهَا؟ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُمْ يَشْرَبُونَ شَرَابًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ الطِّلَاءُ، فَقَالَتْ: صَدَقَ اللهُ، وَبَلَّغَ حِبِّي، سَمِعْتُ حِبِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابو مسلم خولانی حج پر گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہا ان سے شام اور وہاں کی سردی کے متعلق پوچھنے لگیں اور پوچھا: وہ یہ سردی کیسے برداشت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ «طِلَاء» نامی مشروب پیتے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور میرے محبوب نے پہنچایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17382
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيَشْرَبَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، وَتُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمُ الْمَعَازِفُ، يَخْسِفُ اللهُ بِهُمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمْ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ شراب کا نام تبدیل کر کے شراب پییں گے، ان کے سروں پر آلاتِ موسیقی بجائے جائیں گے، اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17383
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ الطِّلَاءَ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ، فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں نے فلاں سے شراب کی بو محسوس کی ہے، اگر اس نے طلاء پی ہے اور اس میں نشہ تھا تو میں اسے حد لگاؤں گا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پوری حد لگائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17384
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " قَدْ جَاءَتْ فِي الْأَشْرِبَةِ آثَارٌ كَثِيرَةٌ بِأَسْمَاءَ مُخْتَلِفَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَكُلٌّ لَهُ تَفْسِيرٌ: فَأَوَّلُهَا الْخَمْرُ: وَهِيَ مَا غَلَى مِنْ عَصِيرِ الْعِنَبِ، فَهَذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِي تَحْرِيمِهِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّمَا الِاخْتِلَافُ فِي غَيْرِهِ وَمِنْهَا السَّكَرُ: وَهُوَ نَقِيعُ التَّمْرِ الَّذِي لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: السَّكَرُ خَمْرٌ ⦗٥١٣⦘ وَمِنْهَا الْبِتْعُ: وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَمِنْهَا الْجِعَةُ: وَهُوَ نَبِيذُ الشَّعِيرِ وَمِنْهَا الْمِزْرُ: وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشروبات کے بارے میں نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سی روایات مختلف ناموں کے ساتھ آئی ہیں اور ہر ایک کی وضاحت ہے: ان میں پہلی «الْخَمْرُ» ہے، یہ انگور کا وہ رس ہے جس میں جوش آ جائے، اس کی حرمت میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف اس کے علاوہ میں ہے۔ ان میں سے ایک «السَّكَرُ» ہے جو کھجور کو بھگو کر بنائی جاتی ہے اور اسے آگ نہیں چھوتی، اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: سکر شراب ہے۔ ان میں سے «الْبِتْعُ» ہے یعنی شہد کی شراب، ان میں سے «الْجِعَةُ» ہے، یہ جو کی شراب ہے، اور ان میں سے «الْمِزْرُ» ہے جو مکئی کے دانے سے بنتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17385
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أكيلٍ مُؤَذِّنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَسَّرَ هَذِهِ الْأَرْبَعَةَ الْأَشْرِبَةَ، وَزَادَ: " وَالْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ، وَالسَّكَرُ مِنَ التَّمْرِ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنْهَا السُّكْرُكَةُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ التَّفْسِيرُ فَقَالَ: إِنَّهُ مِنَ الذُّرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ان چار مشروبات کی وضاحت کی اور یہ اضافہ کیا: ”اور خمر انگور سے ہے اور سکر کھجور سے۔“ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے «السُّكْرُكَةُ» بھی ہے، اور اس کی وضاحت اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ مکئی سے بنتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17386
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثنا حَجَّاجٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَخْطُبُ فَقَالَ: " خَمْرُ الْمَدِينَةِ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَخَمْرُ أَهْلِ فَارِسَ مِنَ الْعِنَبِ، وَخَمْرُ أَهْلِ الْيَمَنِ الْبِتْعُ، وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ، وَخَمْرُ الْحَبَشِ السُّكْرُكَةُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ أَيْضًا الْفَضِيخُ، وَهُوَ مَا افْتُضِخَ مِنَ الْبُسْرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ، وَفِيهِ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَيْسَ بِالْفَضِيخِ، وَلَكِنَّهُ الْفَضُوخُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن محرز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہلِ مدینہ کی شراب تر کھجور سے ہے اور اہلِ فارس انگور سے بناتے ہیں اور اہلِ یمن شہد سے اور اہلِ حبشہ مکئی کے دانے سے اور ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْفَضِيخُ» ”فضیخ“ بھی ایک شراب ہے جو تر کھجور سے بنتی ہے لیکن اسے آگ نہیں چھوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17387
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَيُرْوَى عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَمَا كَانَتْ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ هَذَا"، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَإِنْ كَانَ مَعَ الْبُسْرِ تَمْرٌ فَهُوَ الَّذِي يُسَمَّى الْخَلِيطَيْنِ، وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَ زَبِيبًا وَتَمْرًا فَهُوَ مِثْلُهُ وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ: الْمَنْصَفُ، وَهُوَ أَنْ يُطْبَخَ عَصِيرُ الْعِنَبِ قَبْلَ أَنْ يَغْلِيَ حَتَّى يَذْهَبَ نِصْفُهُ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُسْكِرُ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ، وَإِنْ طُبِخَ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ فَهُوَ الطِّلَاءُ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ شُبِّهُ بِطِلَاءِ الْإِبِلِ فِي ثِخَنِهِ وَسَوَادِهِ، وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَجْعَلُ الطِّلَاءَ الْخَمْرَ بِعَيْنِهَا، يُرْوَى أَنَّ عَبِيدَ بْنَ الْأَبْرَصِ قَالَ فِي مَثَلٍ لَهُ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: شراب کی حرمت نازل ہوئی اور اس وقت تمہاری اس فضیخ کے سوا کوئی شراب نہ تھی۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام «خَلِيْطَيْنِ» ”خلیطین“ ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب «مُنَصَّف» ”منصف“ بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتا چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ «طِلَاء» ”طلاء“ ہوتا ہے، اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب «طِلَاء» ”طلاء“ کو بعینہٖ شراب ہی قرار دیتے ہیں۔ عبید بن ابرص نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے:
یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو «خَمْر» ”خمر“ کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں داخل ہیں: ”میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17388
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»