السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تفسير الخمر الذي نزل تحريمها باب: اس شراب کی تفسیر کا بیان جس کی حرمت نازل ہوئی تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، أنبأ أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: " انْطَلِقَا فَادْعُوَا النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ: الْبِتْعُ مِنَ ⦗٥٠٧⦘ الْعَسَلِ نَنْبِذُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْمِزْرُ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ نَنْبِذُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، وَقَالَ: " أُحَرِّمُ كُلَّ مُسْكِرٍ عَنِ الصَّلَاةِ " قَالَ: " فَانْطَلَقْنَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے مجھے اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دو، آسانی پیدا کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا، خوش خبری دینا اور نفرت نہ دلانا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان دو مشروبات کے بارے میں فتویٰ دیجیے جو ہم یمن میں بناتے تھے: بتع جو شہد سے بنتا ہے، ہم اسے بھگو کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ تیز ہو جائے، اور مزر جو گندم، جو اور مکئی سے بنتا ہے، ہم اسے بھگو کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ تیز ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ کو جامع کلمات اور ان کے خاتمے عطا کیے گئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر اس نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتا ہوں جو نماز سے روک دے۔“ فرماتے ہیں: پھر ہم چل پڑے۔