کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا إِمْلَاءً قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " ⦗٢٣٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟ " قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَفْعَلُ هَذَا قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " لَفْظُ حَدِيثِ التَّنُوخِيِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ ابْنِ إِسْحَاقَ مِنْ مَكْحُولٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت مشکل ہوگئی۔ جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! ہم تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اسے نہیں پڑھتا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ: وَقَالَ: " إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ؟ " قُلْنَا: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ مجھے مکحول نے یہ حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو جب وہ جہری قراءت کر رہا ہوتا ہے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا ہی ہے (ہم پڑھتے ہیں)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو، سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔
علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٢٣٥⦘ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، فَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ، حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟ " فَقَالَ: بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ: " فَلَا وَأَنَا أَقُولُ: مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز سے تاخیر ہوگئی تو ابو نعیم موذن (جس نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان دی) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اتنے میں عبادہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے ابو نعیم کے پیچھے نیت باندھ لی۔ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورہ فاتحہ (آہستہ آواز میں) پڑھنی شروع کردی۔ جب وہ نماز پڑھ چکے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ ابو نعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہری نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت مشکل ہوگئی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو رخِ انور ہماری طرف کر کے گویا ہوئے: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم بھی قراءت کرتے ہو؟“ ہم میں سے بعض نے کہا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَغَيْرِهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودٍ أَبِي نُعَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ مَعِي؟ " قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زَرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ فَذَكَرَهُ وَهَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا الْمُؤَذِّنُ وَالْإِمَامُ كَانَ أَبَا نُعَيْمٍ وَالْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ، وَعَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عُبَادَةَ، فَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، أَظُنُّهُ قَالَ خَطَأً، إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنَ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا حَرَامُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو نعیم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نماز میں میرے ساتھ پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔
ابوبکر بن حارث فقیہ نے ہمیں خبر دی کہ مجھے علی بن عمر حافظ نے بتایا کہ ابن صاعد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ خطا ہے۔ ابو نعیم تو صرف مؤذن تھا اس طرح نہیں تھا جس طرح ولید نے کہا ہے۔
یہ غلطی ہے، مؤذن اور امام ابونعیم ہی تھے، اور یہ حدیث مکحول عن محمود بن ربیع عن عبادہ کی سند سے اور مکحول عن نافع بن محمود عن عبادہ کی سند سے ہے، گویا مکحول نے اسے ان دونوں سے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، وَأَبُو زَرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا صَدَّقَةُ بْنُ خَالِدٍ ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ كَذَا قَالَ: إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ الْقِرَاءَةَ؟ " قُلْنَا: ⦗٢٣٦⦘ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بن محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا اور ابو نعیم (دوران جماعت بطور امام) اونچی قراءت کر رہے تھے۔ نافع کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں نے آپ کو نماز میں کچھ پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ کو ام القرآن پڑھتے سنا ہے، حالانکہ ابو نعیم اونچی قراءت کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا ہے ہی ہے) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہری نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جب میں بلند آواز سے قراءت کرتا ہوں تو شاید تم میں سے کوئی قراءت کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تبھی تو سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورۃ فاتحہ کے سوا قرآن میں سے کچھ نہ پڑھا کرو۔“
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ: وَكَانَ عَلَى إِيلِيَاءَ فَأَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الصَّلَاةَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَجِئْتُ مَعَ عُبَادَةَ حَتَّى صَفَّ مَعَ النَّاسِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقَرَأَ عُبَادَةُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى فَهِمْتُهَا مِنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَاةِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: " لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَوَاهِدُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع بن محمود انصاری سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبادہ رضی اللہ عنہ ایلیا میں تھے، آپ صبح کی نماز میں پیچھے رہ گئے تو ابونعیم نے نماز کھڑی کردی۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بیت المقدس میں اذان کہی۔ میں سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ آپ لوگوں کے ساتھ آکر صف میں شامل ہوگئے۔ ابونعیم اونچی آواز سے قراءت کر رہے تھے اور عبادہ رضی اللہ عنہ سورہ فاتحہ کی قراءت (آہستہ) کر رہے تھے، مجھے سمجھ آرہی تھی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! ہمیں رسول اللہ ﷺ نے جہری نماز پڑھائی تو فرمایا: ”جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوں تو سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔“
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔
یہ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے صحیح ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ لَفْظًا ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ " قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی عائشہ رحمہ اللہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کہ تم بھی قراءت کرتے ہو جبکہ امام قراءت کر رہا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، مگر تم میں سے ہر ایک سورۂ فاتحہ ضرور پڑھے۔“
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَتَقْرَءُونَ فِي صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟ " فَسَكَتُوا، فَقَالَ لَهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ: " لَا تَفْعَلُوا لِيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو (ہماری طرف) متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم اپنی نمازوں میں قرأت کرتے ہو؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم خاموش ہو گئے۔ آپ ﷺ نے تین بار پوچھا تو کسی نے کہا: ”ہم ایسے ہی کرتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ پڑھا کرو، صرف تم میں سے ہر ایک سورۃ فاتحہ اپنے دل میں پڑھ لیا کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ عَنْ أَنَسٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّ هَذَا إِنَّمَا يُعْرَفُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
انس رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرنے میں عبیداللہ بن عمرو رقی منفرد ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت صرف ابوقلابہ عن محمد بن ابی عائشہ کی سند سے معروف ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرنے میں عبیداللہ بن عمرو رقی منفرد ہیں اور وہ ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت صرف ابوقلابہ عن محمد بن ابی عائشہ کی سند سے معروف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ مُؤَمَّلٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ خَالِدٍ قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ مَوْلًى لِبَنِي أُمَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) دوسری سند سے اسی جیسی روایت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے منقول ہے جو نبی ﷺ سے قراءت کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں۔
(ب) اسماعیل، خالد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بنی امیہ کے غلام محمد بن ابی عائشہ نے۔
(ب) اسماعیل، خالد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بنی امیہ کے غلام محمد بن ابی عائشہ نے۔
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَقْرَءُونَ خَلْفِي؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِيمَا ذَكَرْنَا عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میرے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ⦗٢٣٨⦘ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا خَلْفَ الْإِمَامِ فَأَقْرَأُ خَلْفَهُ قَالَ: فَأَخَذَ ذِرَاعِي، فَقَالَ: اقْرَأْ يَا فَارِسِيُّ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ نِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُولُ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] يَقُولُ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: ٥] قَالَ اللهُ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " وَفِي حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ " وَإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي فَهَذَا لِي وَمَا بَقِيَ لَهُ يَقُولُ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: ٥] ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي كِتَابِ الرَّدِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے۔“ ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میرے بازو کو پکڑ کر کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے۔ اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری ثنا بیان کی“ اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”جزا کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا“۔“
ولید بن کثیر کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”قیامت کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ یہ میرے لیے ہے اور باقی میرے بندے کے لیے ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] پھر پوری سورت پڑھی۔
ولید بن کثیر کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”قیامت کے دن کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ یہ میرے لیے ہے اور باقی میرے بندے کے لیے ہے“۔ جب بندہ کہتا ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] پھر پوری سورت پڑھی۔
عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ " قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، أَوْ يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، عَنْ جِمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے۔“ علاء کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! میں تو امام کی قرأت سن رہا ہوتا ہوں تو انہوں نے فرمایا: اے فارسی! یا فرمایا: اے فارسی کے بیٹے! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(ب) صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت جن میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں سے ہمیں قرأت خلف الامام کی روایات پہنچی ہیں۔
(ب) صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت جن میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں سے ہمیں قرأت خلف الامام کی روایات پہنچی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ كُنْتُ أَنَا، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ جَهَرْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ ضرور پڑھا کرو۔ میں نے کہا: اگرچہ امام آپ ہی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اگرچہ میں ہی ہوں۔ میں نے کہا: اگرچہ آپ اونچی قراءت کر رہے ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگرچہ میں اونچی آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْإصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ كِتَابِهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ ⦗٢٣٩⦘ قَالَ عَلِيٌّ: رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ: " وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ سَائِرُ الرِّوَايَاتِ أَنَّ جَوَّابًا أَخَذَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، وَإِبْرَاهِيمَ أَخَذَهُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، وَلِإِبْرَاهِيمَ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن حارث فقیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے۔ علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَايَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَعَهَا " قَالَ: قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا كُنْتَ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: " اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ " وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک شخص عبایہ سے سنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ (قرآن کا حصہ) پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ میں نے کہا: جب میں امام کے پیچھے ہوں تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے دل میں اس (فاتحہ) کو پڑھ لیا کرو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، ثنا الْمُعَلَّى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ " يَأْمُرُ أَوْ يَحُثُّ أَنْ يُقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى الشَّامِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ حَيْثُ قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن ابی رافع سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورت مزید پڑھنے کا حکم یا ترغیب دیا کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ جَابِرٍ قَالَا: " يَقْرَأُ الْإِمَامُ وَمَنْ خَلْفَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَسَمَاعُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَابِتٌ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَأْمُرُ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ مُرْسَلٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ مِنَ الْمَوْصُولِ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضَعْفِ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ بِأَسَانِيدَ لَا يَسْوَى ذِكْرَهَا لِضَعْفِهَا. ⦗٢٤٠⦘ وَمِنْهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا علی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام اور مقتدی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں جبکہ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ ان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقُلْتُ لَهُ: تَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا تو میں نے انہیں کہا کہ کیا آپ امام کے پیچھے بھی قراءت کرتے ہیں؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ، فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: " لَا تَشَبَّهُوا بِهَذَا وَلَا بِأَمْثَالِهِ، إِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنْ كُنْتَ خَلْفَ إِمَامٍ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَحْدَكَ فَأَسْمِعْ أُذُنَيْكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَمَنْ عَنْ يَسَارِكَ " هُوَ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَكِّيُّ الشَّامِيُّ، وَمَذْهَبُ عُبَادَةَ فِي ذَلِكَ مَشْهُورٌ وَمِنْهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جو نہ رکوع مکمل کر رہا تھا اور نہ سجدے، عبادہ رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے، اس کا ہاتھ پکڑا اور (دیگر لوگوں سے مخاطب ہوئے) فرمایا: اس کی نماز کی اتباع نہ کرو کیونکہ ”سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“ اگر تم امام کے پیچھے ہو تو اس کو اپنے دل میں پڑھا کرو اور اگر علیحدہ نماز پڑھ رہے ہو تو اپنی آواز صرف اپنے کانوں تک محدود رکھو اور اپنے دائیں بائیں والوں کو (اونچا پڑھ کر) تکلیف مت دو۔ اس بارے میں عبادہ رضی اللہ عنہ کا مذہب مشہور ہے، ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ، ثنا إِسْحَاقُ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: " سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنِ كَعْبٍ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: " نَعَمْ " وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی ہذیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، قراءت کرو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلْفَ الْإِمَامِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ " وَمِنْهُمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے انہیں ظہر اور عصر میں قراءت کرتے سنا، ان میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شَيْبَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: " إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَإِذَا لَمْ تَسْمَعْ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا مَنْ عَنْ شِمَالِكَ " وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو فیض سے روایت ہے کہ میں نے ابو شیبہ مہری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب امام جہراً قرات کرے تو سورہ فاتحہ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھ لے اور جب سری نماز ہو تو بھی اپنے دل میں سورہ فاتحہ پڑھ اور اپنے دائیں بائیں والوں کو تکلیف نہ دے۔ ان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ لو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا ⦗٢٤٢⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا ابْنُ عَرَفَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا تَدَعْ أَنْ تَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ خَلْفَ الْإِمَامِ، جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ " وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَدْ مَضَتْ رِوَايَةُ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام کے پیچھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا مت چھوڑو، چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری کرے۔
(ب) ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی ہیں، ابو ازہر ضبعی کی ابوعالیہ کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے۔
(ب) ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی ہیں، ابو ازہر ضبعی کی ابوعالیہ کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُصَيْنٌ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ " فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ مُجَاهِدٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ " يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حصین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے پہلو میں نماز ادا کی تو میں نے انہیں امام کے پیچھے قرات کرتے سنا، چنانچہ میں مجاہد رحمہ اللہ سے ملا تو ان کے سامنے میں نے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو امام کے پیچھے ظہر کی نماز میں سورہ مریم کی آیات تلاوت کرتے سنا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَكَذَلِكَ مَا قَبْلَهُ كَذَا قَالَ، وَمِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ مَضَتْ رِوَايَةُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمِنْهُمْ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حصین کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ظہر اور عصر میں امام کے پیچھے قراءت کرتے سنا۔
(ب) ان میں سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی روایت گزر چکی ہے اور انہی میں سے ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
یہ سند صحیح ہے، اور اسی طرح اس سے پہلے والی بھی، انہوں نے اسی طرح کہا ہے۔
(ب) ان میں سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کی روایت گزر چکی ہے اور انہی میں سے ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
یہ سند صحیح ہے، اور اسی طرح اس سے پہلے والی بھی، انہوں نے اسی طرح کہا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْجَوَارِيِّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ قَالُوا: أنبأ الْوَلِيدُ، هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ: " لَا يَتْرُكْ قِرَاءَةَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ "، ⦗٢٤٣⦘ هَذَا لَفْظُ كَثِيرٍ وَزَادَ عَلِيٌّ، وَابْنُ أَبِي الْجَوَارِيِّ: " وَلَوْ أَنْ تَقْرَأَ وَأَنْتَ رَاكِعٌ " زَادَ عَمْرٌو وَحْدَهُ: " وَإِنْ كَانَ رَاكِعًا فَاقْرَأْهَا إِذَا عَلِمْتَ أَنَّكَ تُدْرِكُ آخِرَهَا " وَمِنْهُمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری، امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ چھوڑنا۔ یہ کثیر کے الفاظ ہیں۔
(ب) علی اور ابن ابی حواری نے اضافہ کیا ہے: ”اگرچہ تو رکوع کی حالت میں پڑھے۔“
(ج) اکیلے عمرو نے یہ اضافہ کیا ہے: اگر امام رکوع میں ہو تو سورہ فاتحہ پڑھ لے جب کہ تجھے یقین ہو کہ تو اس کو آخر تک پالے گا (یعنی مکمل پڑھ لے گا)۔
(د) ان میں سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
(ب) علی اور ابن ابی حواری نے اضافہ کیا ہے: ”اگرچہ تو رکوع کی حالت میں پڑھے۔“
(ج) اکیلے عمرو نے یہ اضافہ کیا ہے: اگر امام رکوع میں ہو تو سورہ فاتحہ پڑھ لے جب کہ تجھے یقین ہو کہ تو اس کو آخر تک پالے گا (یعنی مکمل پڑھ لے گا)۔
(د) ان میں سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَمِنْهُمْ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ساتھ کوئی اور سورت پڑھتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے، ان میں سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَمِنْهُمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابونضرہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: سورہ فاتحہ پڑھو۔
ان میں سے ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان میں سے ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْحَاكِمُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ، قَرَأَ فَقِيلَ لَهُ أَتَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: " إِنَّا لَنَفْعَلُ " وَمِنْهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی تو کسی نے ان سے کہا: کیا آپ امام کے پیچھے بھی پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم تو ایسا کرتے ہیں۔
ان میں سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان میں سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي التَّارِيخِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَجِيهِ يَعْنِي النَّيْسَابُورِيَّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ " يَأْمُرُنَا بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: وَكُنْتُ أَقُومُ إِلَى جَنْبِ أَنَسٍ فَيَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَيُسْمِعُنَا قِرَاءَتَهُ لَنَأْخُذَ عَنْهُ " كَذَا قَالَ ⦗٢٤٤⦘.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہمیں امام کے پیچھے بھی قرأت کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پہلو میں کھڑا ہوا کرتا تھا تو وہ سورۃ فاتحہ اور مفصلات میں سے ایک سورت پڑھا کرتے تھے اور ہمیں اپنی قرأت سنایا بھی کرتے تھے تاکہ ہم ان سے یاد کر لیں
(ب) اس حدیث کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے «قِرَاءَةُ خَلْفَ الْإِمَامِ» میں احمد بن سعید دارمی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
(ب) اس حدیث کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے «قِرَاءَةُ خَلْفَ الْإِمَامِ» میں احمد بن سعید دارمی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
وَرَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي كِتَابِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنِ النَّضْرِ، عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ: وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا الْعَوَّامُ، وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ وَهَذَا أَصَحُّ وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اس جیسی روایت منقول ہے۔ ان میں عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَيَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سُحَيْمٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ، صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا أَنْ " نَقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَمِنْهُمْ عَائِشَةُ الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنْ أَبِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عمر بن ابی سحیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہمیں سکھایا کرتے تھے کہ ہم امام کے پیچھے ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھیں اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں۔
(ب) ان میں سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
(ب) ان میں سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ مُشَافَهَةً أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، حَدَّثَهُمْ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا كَانَا " يَأْمُرَانِ بِالْقِرَاءَةِ وَرَاءَ الْإِمَامِ إِذَا لَمْ يَجْهَرْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ دونوں امام کے پیچھے قراءت کا حکم دیتے تھے جب امام سری نماز پڑھا رہا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَهْ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إبْرَاهِيْمَ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا " يَأْمُرَانِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ " وَكَانتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَرُوِّينَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَرُوِّينَا عَنْ جِمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح ذکوان سیدنا ابوہریرہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ قَالُوا: كَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: " اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا " قَالَ مَكْحُولٌ: " اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهَا الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، وَإِنْ لَمْ يَسْكُتْ قَرَأْتَهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ، لَا تَتْرُكَنَّهَا عَلَى حَالٍ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابن جابر، سعید بن عبدالعزیز اور عبداللہ بن علا رحمہ اللہ تینوں سے منقول ہے کہ مکحول رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کی ہر رکعت میں آہستہ آواز میں سورہ فاتحہ پڑھا کرو۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورہ فاتحہ پڑھے اور خاموش ہو جائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورہ فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کر لے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورہ فاتحہ پڑھے اور خاموش ہو جائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورہ فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کر لے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔
…