السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2916
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ: وَقَالَ: " إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ؟ " قُلْنَا: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ مجھے مکحول نے یہ حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو جب وہ جہری قراءت کر رہا ہوتا ہے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا ہی ہے (ہم پڑھتے ہیں)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو، سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو کیونکہ جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“