السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ مُؤَمَّلٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ خَالِدٍ قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ مَوْلًى لِبَنِي أُمَيَّةَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) دوسری سند سے اسی جیسی روایت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے منقول ہے جو نبی ﷺ سے قراءت کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں۔
(ب) اسماعیل، خالد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بنی امیہ کے غلام محمد بن ابی عائشہ نے۔