السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2931
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَايَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَعَهَا " قَالَ: قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا كُنْتَ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: " اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ " وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بنو تمیم کے ایک شخص سے سنا جو ہار بنایا کرتا تھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ (قرآن کا حصہ) پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ میں نے کہا: جب میں امام کے پیچھے ہوں تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے دل میں اس (فاتحہ) کو پڑھ لیا کرو۔