السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2938
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شَيْبَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: " إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَإِذَا لَمْ تَسْمَعْ فَاقْرَأْ فِي نَفْسِكَ، وَلَا تُؤْذِ مَنْ عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا مَنْ عَنْ شِمَالِكَ " وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو فیض سے روایت ہے کہ میں نے ابو شیبہ مہری کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب امام جہراً قرات کرے تو سورہ فاتحہ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھ لے اور جب سری نماز ہو تو بھی اپنے دل میں سورہ فاتحہ پڑھ اور اپنے دائیں بائیں والوں کو تکلیف نہ دے۔ ان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔