السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2940
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا ⦗٢٤٢⦘ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا ابْنُ عَرَفَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا تَدَعْ أَنْ تَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ خَلْفَ الْإِمَامِ، جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ " وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَدْ مَضَتْ رِوَايَةُ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام کے پیچھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا مت چھوڑو، چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری کرے۔
(ب) ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی ہیں، ابو ازہر ضبعی کی ابوعالیہ کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت گزر چکی ہے۔
(ج) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابن عتبہ رضی اللہ عنہما کو امام کے پیچھے قراءت کرتے سنا۔