السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ قَالُوا: كَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: " اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا " قَالَ مَكْحُولٌ: " اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهَا الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، وَإِنْ لَمْ يَسْكُتْ قَرَأْتَهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ، لَا تَتْرُكَنَّهَا عَلَى حَالٍ ".(ا) ابن جابر، سعید بن عبدالعزیز اور عبداللہ بن علا رحمہ اللہ تینوں سے منقول ہے کہ مکحول رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کی ہر رکعت میں آہستہ آواز میں سورہ فاتحہ پڑھا کرو۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورہ فاتحہ پڑھے اور خاموش ہو جائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورہ فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کر لے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔
(ج) ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ امام کے خاموش ہونے کو غنیمت جانو۔