السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ كُنْتُ أَنَا، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ جَهَرْتُ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورہ فاتحہ ضرور پڑھا کرو۔ میں نے کہا: اگرچہ امام آپ ہی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اگرچہ میں ہی ہوں۔ میں نے کہا: اگرچہ آپ اونچی قراءت کر رہے ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگرچہ میں اونچی آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔