السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ جَابِرٍ قَالَا: " يَقْرَأُ الْإِمَامُ وَمَنْ خَلْفَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَسَمَاعُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَابِتٌ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَأْمُرُ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ مُرْسَلٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ مِنَ الْمَوْصُولِ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى ضَعْفِ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ بِأَسَانِيدَ لَا يَسْوَى ذِكْرَهَا لِضَعْفِهَا. ⦗٢٤٠⦘ وَمِنْهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.(ا) سیدنا علی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ امام اور مقتدی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں جبکہ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ ان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
عبیداللہ بن ابی رافع کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے، وہ آپ کے کاتب تھے۔
(ب) ہمیں حماد اور حکم کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔
یہ روایت مرسل ہے جو گزشتہ موصول روایت کی شاہد ہے، اور ان سب میں اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف جو کچھ ایسی سندوں سے مروی ہے جو اپنے ضعف کی وجہ سے ذکر کے قابل نہیں، وہ ضعیف ہے۔