السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2943
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْجَوَارِيِّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ قَالُوا: أنبأ الْوَلِيدُ، هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ: " لَا يَتْرُكْ قِرَاءَةَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ "، ⦗٢٤٣⦘ هَذَا لَفْظُ كَثِيرٍ وَزَادَ عَلِيٌّ، وَابْنُ أَبِي الْجَوَارِيِّ: " وَلَوْ أَنْ تَقْرَأَ وَأَنْتَ رَاكِعٌ " زَادَ عَمْرٌو وَحْدَهُ: " وَإِنْ كَانَ رَاكِعًا فَاقْرَأْهَا إِذَا عَلِمْتَ أَنَّكَ تُدْرِكُ آخِرَهَا " وَمِنْهُمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری، امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ چھوڑنا۔ یہ بہت سوں کے الفاظ ہیں۔
(ب) علی اور ابن ابی حواری نے اضافہ کیا ہے: ”اگرچہ تو پڑھ کر رکوع کرلے۔“
(ج) اکیلے عمرو نے یہ اضافہ کیا ہے: اگر امام رکوع میں ہو تو سورہ فاتحہ پڑھ لے جب کہ تجھے یقین ہو کہ تو اس کو آخر تک پالے گا (یعنی مکمل پڑھ لے گا)۔
(د) ان میں سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔