السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2928
عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ " قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، أَوْ يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، عَنْ جِمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَمِنْهُمْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے۔“ ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! میں تو امام کی قرأت سن رہا ہوتا ہوں تو انہوں نے فرمایا: اے فارسی! یا فرمایا: اے فارسی کے بیٹے! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(ب) صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت جن میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں سے ہمیں قرأت خلف الامام کی روایات پہنچی ہیں۔