کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى وَكَانَ مَنْ خَلْفَهُ يَقْرَأُ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَتَنْهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَازَعَا حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ جَابِرٍ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے قراءت کر رہے تھے تو صحابہ میں سے ایک شخص انھیں نماز میں قراءت سے منع کرنے لگا۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے مجھے قراءت سے منع کررہا تھا؟ حتیٰ کہ ان میں تکرار ہوگیا۔ انھوں نے نبی ﷺ کے سامنے بات پیش کی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی امام کے پیچھے نماز (پڑھ رہا ہو) تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہوگی۔“ [منکر۔ قال ابو حاتم فی العلل ۲۸۲]
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ الثِّقَةُ ⦗٢٢٨⦘ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ كِتَابِ الصَّلَاةِ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَكَذَلِكُ رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ مُوسَى مَوْصُولًا، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی امام کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہا ہو تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہوگی۔“
اسی طرح علی بن حسن بن شقیق نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح سفیان بن سعد ثوری، شعبہ بن حجاج، منصور بن معتمر، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس، ابوعوانہ، ابوالاحوص اور جریر بن عبدالحمید وغیرہ جیسے بااعتماد راویوں نے نقل کیا ہے اور یہی روایت حسن بن عمارہ نے موسیٰ کے واسطے سے موصول بیان کی ہے اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔
اسی طرح علی بن حسن بن شقیق نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح سفیان بن سعد ثوری، شعبہ بن حجاج، منصور بن معتمر، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس، ابوعوانہ، ابوالاحوص اور جریر بن عبدالحمید وغیرہ جیسے بااعتماد راویوں نے نقل کیا ہے اور یہی روایت حسن بن عمارہ نے موسیٰ کے واسطے سے موصول بیان کی ہے اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 2898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، وَلَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا وَكُلُّ مَنْ تَابَعَهُمَا عَلَى ذَلِكَ أَضْعَفُ مِنْهُمَا أَوْ مِنْ أَحَدِهِمَا، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی امام کی اقتدا کر رہا ہو تو امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔“
حدیث نمبر: 2899
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ جَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَقَدْ رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، عَنْ مَالِكٍ وَذَاكَ مِمَّا لَا يَحِلُّ رِوَايَتُهُ عَلَى طَرِيقِ الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَقَدْ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ⦗٢٢٩⦘ مَذْهَبُ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ تَرْكَ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ مَا لَا يَجْهَرُ، فَقَدْ رَوَى يَزِيدٌ الْفَقِيرُ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَكَذَلِكَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَذْهَبَ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جس نے ایک بھی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو ایسی نماز صرف امام کے پیچھے ہی پڑھ سکتا ہے وگرنہ نہیں۔
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے۔
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے۔
حدیث نمبر: 2900
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغُلًا، وَسَيَكْفِيكَ ذَاكَ الْإِمَامُ " وَإِنَّمَا يُقَالُ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ لِمَا يُسْمَعُ لَا مَا لَا يُسْمَعُ " وَقَدْ قَالَ عَلْقَمَةُ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ فَلَمْ أَعْلَمْ أَنَّهُ يَقْرَأُ حَتَّى جَهَرَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {وَقُلْ رَبِّي زِدْنِي عِلْمًا} وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَلْفَ الْإِمَامِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: قرآن (سننے) کے لیے خاموشی اختیار کر؛ کیونکہ یہ نماز میں شغل ہے اور تجھے امام کی قرات ہی کافی ہے۔
(ب) «أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ» ”قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو“ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں)۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انہوں نے سورہ طہ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورة طه: 114] ”کہہ دیجیے! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔“
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔
(ب) «أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ» ”قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو“ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں)۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انہوں نے سورہ طہ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورة طه: 114] ”کہہ دیجیے! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔“
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2901
وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى وَرَاءَ الْإِمَامِ كَفَاهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مَرْفُوعًا ⦗٢٣٠⦘ وَهُوَ خَطَأٌ وَسُوَيْدٌ تَغَيَّرَ بِآخِرِهِ فَكَثُرَ الْخَطَأُ فِي رِوَايَاتِهِ، وَرُوِيَ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَخَارِجَةُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْحَافِظَ هُوَ الْمَرْوَزِيُّ يَقُولُ: حَدِيثُ خَارِجَةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ " غَلَطٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ عَلَى أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُهُ قَالَ عَبْدَانُ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أُصَلِّيَ صَلَاةً لَا أَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، كَذَا قَالَ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قراءت اسے کافی ہے۔“
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ...» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ...» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
حدیث نمبر: 2902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، فَذَكَرَ قِصَّةً وَفِيهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ تَقْرَأُ؟ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا أَقْرَأُ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " فَزَائِدًا أَوْ قَالَ: فَصَاعِدًا قَالَ يَعْقُوبُ: وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ نَحْوَهُ، " فَكَأَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يُسِرُّ الْإِمَامُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ، وَعَلَى ذَلِكَ وَضَعَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوعالیہ براء سے روایت ہے کہ عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ ہر نماز میں قراءت کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ایسی دو رکعتیں پڑھوں جن میں سورہ فاتحہ یا اس سے زیادہ نہ پڑھوں۔ ایک روایت میں «فَزَائِدًا» کے الفاظ ہیں، دوسری میں «فَصَاعِدًا» کے الفاظ ہیں۔
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں۔ اسی پر مالک بن انس رحمہ اللہ نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی، ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں۔ اسی پر مالک بن انس رحمہ اللہ نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی، ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أُسَامَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَ " ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ، وَكَانَ رِجَالٌ أَئِمَّةٌ يَقْرَءُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ " كَذَا رَوَاهُ، وَالْمُثْبِتُ أَوْلَى مِنَ النَّافِي.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے، چاہے سری نماز ہو یا جہری، جبکہ دیگر حضرات امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: " إِنْ قَرَأْتَ فَقَدْ قَرَأَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ، وَالْأَخْذُ بِأَمْرِهِمْ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَقَدْ تَرَكَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ " قَالَ: " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ ".
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے قراءت خلف الإمام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر آپ قراءت کریں تو عظیم لوگوں نے بھی قراءت کی ہے جن کی زندگیاں نمونہ ہیں اور ان کی سیرت پر عمل کیا جاتا ہے اور اگر آپ قراءت نہ کریں تب بھی ایسے کئی لوگوں نے قراءت نہیں کی جن کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قراءت نہیں کرتے تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قراءت نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2905
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، وَابْنُ صَاعِدٍ، قَالَا ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " مَنْ ذَا الَّذِي يُخَالِجُنِي سُورَتِي؟ " فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلَهُ: " فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ " تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ حَجَّاجٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ، شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَعْمَرٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَحَجَّاجٌ، وَأَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَهَمَّامٌ، وَأَبَانُ وَسَعِيدُ بْنُ بِشْرٍ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجٌ، قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے (اونچی آواز میں) پڑھ رہا تھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کون ہے جو مجھ سے میری سورت (جو میں پڑھ رہا تھا) چھین رہا تھا؟“ پھر آپ ﷺ نے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرما دیا۔ حجاج اس روایت میں متفرد ہیں۔
ابن صاعد کہتے ہیں کہ ان کے قول «فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ...» ”پس امام کے پیچھے قراءت سے منع فرما دیا...“ کو روایت کرنے میں حجاج اکیلا ہے۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے اس کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟ انہوں نے کہا: اگر اسے ناپسند سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔
ابن صاعد کہتے ہیں کہ ان کے قول «فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ...» ”پس امام کے پیچھے قراءت سے منع فرما دیا...“ کو روایت کرنے میں حجاج اکیلا ہے۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے اس کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟ انہوں نے کہا: اگر اسے ناپسند سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 2906
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟ " قَالَ: أَنَا قَالَ: " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا الْمَعْنَى مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک شخص آپ کے پیچھے (جماعت میں) کھڑا ہو گیا، اس نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”پڑھنے والا کون تھا؟“ اس شخص نے عرض کیا: میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جان لیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے مجھ سے چھین رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، فَقَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَرِهَ مِنَ الْقَارِئِ خَلْفَهُ شَيْئًا كَرِهَ الْجَهْرَ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ الْقِرَاءَةِ نَفْسِهَا وَهُوَ مِثْلُ مَا ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) شعبہ کہتے ہیں: ”میں نے قتادہ سے کہا: شاید کہ آپ نے امام کے پیچھے قراءت کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”اگر اس کو اچھا نہ سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔“
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے اور نبی ﷺ نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا)۔“
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے اور نبی ﷺ نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا)۔“
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أنبأ أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ، صَلَّى فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ابْنَ حُذَافَةَ لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور اونچی آواز میں پڑھنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن حذافہ! ہمیں نہ سناؤ بلکہ اللہ کو سناؤ۔“
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ: " مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَغَلَطَ فِيهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَأَخْطَأَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ ذَلِكَ لَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن مرہ حضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قراءت (ضروری) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (ضروری ہے)“ تو انصار کے ایک شخص نے کہا کہ قراءت واجب ہوگئی۔ میں سب لوگوں سے زیادہ آپ ﷺ کے قریب تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قراءت مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالَا: ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا كَثِيرُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ: لَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ أَنْ قَدْ كَفَاهُمْ " قَالَ عَلِيٌّ: الصَّوَابُ: إِنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَهِمَ فِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى زَيْدٌ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ إِمَامٌ حَافِظٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ لَا يَرَاهَا مَعَ الْإِمَامِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہر نماز میں قرات ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: قرات واجب ہوگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے کثیر! (یہ راوی کا نام ہے) میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قرات مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔“
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے کہا ہے کہ راوی زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ ہمیں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے کہا ہے کہ راوی زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ ہمیں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔
حدیث نمبر: 2911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " لَا أَقْرَأُ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ " ⦗٢٣٣⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عطا بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: امام کے پیچھے قراءت نہیں ہے۔
(ب) یہ امام کے ساتھ جہری نمازوں پر محمول ہے۔
(ب) یہ امام کے ساتھ جہری نمازوں پر محمول ہے۔
حدیث نمبر: 2912
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ " وَهَذَا إِنْ صَحَّ بِهَذَا اللَّفْظِ وَفِيهِ نَظَرٌ فَمَحْمُولٌ عَلَى الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ فَرَوَاهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ فِي إِسْنَادِهِ قَالَ: الْبُخَارِيُّ لَا يُعْرَفُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعُ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا يَصِحُّ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قرأت کی، اس کی نماز نہیں ہوگی۔
(ب) یہ حدیث اگر ان الفاظ کے ساتھ صحیح بھی ہو تب بھی محلِ نظر ہے، اس کو جہری قرأت پر محمول کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(ب) یہ حدیث اگر ان الفاظ کے ساتھ صحیح بھی ہو تب بھی محلِ نظر ہے، اس کو جہری قرأت پر محمول کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔