السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2922
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ لَفْظًا ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ " قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی عائشہ رحمہ اللہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کہ تم بھی قراءت کرتے ہو جبکہ امام قراءت کر رہا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، مگر تم میں سے ہر ایک سورۂ فاتحہ ضرور پڑھے۔“
یہ سند جید ہے۔ اسے ابوقلابہ عن انس بن مالک کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔