" إنما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها إنه لا يأتي الخير بالشر إن مما ينبت الربيع يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضر فإنها أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم رتعت وإن هذا المال خضرة حلوة ونعم صاحب المسلم هو لمن أعطاه المسكين واليتيم وابن السبيل فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه
بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة"
بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر دنیا کی رونق اور اس کی چمک دمک کھول دی جائے گی (اور تم اس کی محبت میں پڑ جاؤ گے)۔ یقیناً بھلائی کے ساتھ برائی نہیں آتی۔ بے شک موسمِ بہار کی روئیدگی (کچی گھاس) میں سے بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جو (جانور کو) پیٹ پھلا کر ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہیں، سوائے اس جانور کے جو ہریالی کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کی طرف رخ کر لیتا ہے، پھر گوبر کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے اور پھر چرنے لگ جاتا ہے۔ اور بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے وہ مال کتنا ہی بہترین ساتھی ہے جو اسے مسکین، یتیم اور مسافر کو دے دے۔ پس جس نے اس (مال) کو اس کے حق (یعنی حلال طریقے) کے ساتھ لیا اور اسے اس کے حق (درست جگہ) پر خرچ کیا، تو وہ بہترین مددگار ہے۔ اور جس شخص نے اسے ناحق (حرام طریقے سے) حاصل کیا، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو رہتا ہے لیکن کبھی سیر نہیں ہوتا، اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا۔“
”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر دنیا کی رونق اور اس کی چمک دمک کھول دی جائے گی (اور تم اس کی محبت میں پڑ جاؤ گے)۔ یقیناً بھلائی کے ساتھ برائی نہیں آتی۔ بے شک موسمِ بہار کی روئیدگی (کچی گھاس) میں سے بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جو (جانور کو) پیٹ پھلا کر ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہیں، سوائے اس جانور کے جو ہریالی کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کی طرف رخ کر لیتا ہے، پھر گوبر کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے اور پھر چرنے لگ جاتا ہے۔ اور بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے وہ مال کتنا ہی بہترین ساتھی ہے جو اسے مسکین، یتیم اور مسافر کو دے دے۔ پس جس نے اس (مال) کو اس کے حق (یعنی حلال طریقے) کے ساتھ لیا اور اسے اس کے حق (درست جگہ) پر خرچ کیا، تو وہ بہترین مددگار ہے۔ اور جس شخص نے اسے ناحق (حرام طریقے سے) حاصل کیا، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو رہتا ہے لیکن کبھی سیر نہیں ہوتا، اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا۔“
«إنما أرى بني هاشم وبني المطلب شيئا واحدا إنهم لم يفارقونا في جاهلية ولا إسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک ہی چیز (یعنی ایک ہی خاندان) تصور کرتا ہوں، انہوں نے نہ تو دورِ جاہلیت میں ہمارا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی اسلام میں (ہمیں تنہا کیا)۔“
”بے شک میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کو ایک ہی چیز (یعنی ایک ہی خاندان) تصور کرتا ہوں، انہوں نے نہ تو دورِ جاہلیت میں ہمارا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی اسلام میں (ہمیں تنہا کیا)۔“
«إنما استراح من غفر له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حقیقی راحت تو اسی شخص نے پائی جسے بخش دیا گیا۔“
”حقیقی راحت تو اسی شخص نے پائی جسے بخش دیا گیا۔“
«إنما الأعمال كالوعاء إذا طاب أسفله طاب أعلاه وإذا فسد أسفله فسد أعلاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اعمال کی مثال برتن جیسی ہے، اگر اس کا نچلا حصہ پاکیزہ (اور درست) ہو تو اس کا بالائی حصہ بھی پاکیزہ ہو جاتا ہے، اور اگر اس کا نچلا حصہ خراب ہو جائے تو بالائی حصہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔“
”بے شک اعمال کی مثال برتن جیسی ہے، اگر اس کا نچلا حصہ پاکیزہ (اور درست) ہو تو اس کا بالائی حصہ بھی پاکیزہ ہو جاتا ہے، اور اگر اس کا نچلا حصہ خراب ہو جائے تو بالائی حصہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔“
«إنما الإمام جنة يقاتل به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام (امیر یا حکمران) تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے۔“
”امام (امیر یا حکمران) تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے۔“
«إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن أمر بغيره فإن عليه وزرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام (حکمران) تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے اور اس کے ذریعے (دشمن سے) بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل و انصاف کرے تو اس کے لیے اس (عمل) کا ثواب ہے، اور اگر وہ اس کے علاوہ (کوئی اور) حکم دے تو اس پر اس کا گناہ ہوگا۔“
”امام (حکمران) تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے اور اس کے ذریعے (دشمن سے) بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل و انصاف کرے تو اس کے لیے اس (عمل) کا ثواب ہے، اور اگر وہ اس کے علاوہ (کوئی اور) حکم دے تو اس پر اس کا گناہ ہوگا۔“
«إنما البيع عن تراض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خرید و فروخت تو باہمی رضامندی سے ہی جائز ہے۔“
”خرید و فروخت تو باہمی رضامندی سے ہی جائز ہے۔“
«إنما الدين النصح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دین تو سراپا خیر خواہی (اور خلوص) کا نام ہے۔“
”دین تو سراپا خیر خواہی (اور خلوص) کا نام ہے۔“
«إنما الربا في النسيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سود تو صرف ادھار (یعنی ادائیگی میں تاخیر اور مہلت پر اضافے) میں ہوتا ہے۔“
”سود تو صرف ادھار (یعنی ادائیگی میں تاخیر اور مہلت پر اضافے) میں ہوتا ہے۔“
«إنما الشؤم في ثلاثة: في الفرس والمرأة والدار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نحوست تو (اگر ہوتی تو) صرف تین چیزوں میں ہو سکتی تھی: گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“
”نحوست تو (اگر ہوتی تو) صرف تین چیزوں میں ہو سکتی تھی: گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“
«إنما الطاعة في المعروف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اطاعت (فرمانبرداری) تو صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہے۔“
”اطاعت (فرمانبرداری) تو صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہے۔“
«إنما العلم بالتعلم وإنما الحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتق الشر يوقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”علم تو بس سیکھنے سے آتا ہے، اور بردباری (غصہ پینے کی عادت) تحمل اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص بھلائی کی تلاش میں رہتا ہے اسے بھلائی عطا کر دی جاتی ہے، اور جو برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے اس سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔“
”علم تو بس سیکھنے سے آتا ہے، اور بردباری (غصہ پینے کی عادت) تحمل اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص بھلائی کی تلاش میں رہتا ہے اسے بھلائی عطا کر دی جاتی ہے، اور جو برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے اس سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔“
«إنما الماء من الماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانی (یعنی غسل کا فرض ہونا) تو پانی (یعنی منی کے شہوت سے نکلنے) ہی سے ہے۔“
”پانی (یعنی غسل کا فرض ہونا) تو پانی (یعنی منی کے شہوت سے نکلنے) ہی سے ہے۔“
«إنما المجالس بالأمانة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجالس (کی باتیں اور راز) تو امانت ہوتی ہیں۔“
”مجالس (کی باتیں اور راز) تو امانت ہوتی ہیں۔“
«إنما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل (برے لوگوں) کو دور کر دیتا ہے اور اپنے خالص پن (نیک لوگوں) کو نکھار دیتا ہے۔“
”مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل (برے لوگوں) کو دور کر دیتا ہے اور اپنے خالص پن (نیک لوگوں) کو نکھار دیتا ہے۔“
«إنما الناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کی مثال تو سو اونٹوں جیسی ہے، جن میں سے تجھے سواری کے قابل ایک اونٹ بھی مشکل سے ملتا ہے۔“
”لوگوں کی مثال تو سو اونٹوں جیسی ہے، جن میں سے تجھے سواری کے قابل ایک اونٹ بھی مشکل سے ملتا ہے۔“
«إنما النساء شقائق الرجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتیں تو (احکام و احوال میں) مردوں ہی کا دوسرا حصہ (مثل) ہیں۔“
”عورتیں تو (احکام و احوال میں) مردوں ہی کا دوسرا حصہ (مثل) ہیں۔“
«إنما النفقة والسكنى للمرأة إذا كان لزوجها عليها الرجعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت کے لیے خرچہ اور رہائش تو اسی صورت میں (لازم) ہے جب اس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہو۔“
”عورت کے لیے خرچہ اور رہائش تو اسی صورت میں (لازم) ہے جب اس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہو۔“
«إنما الوتر بالليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وتر کی نماز تو بس رات کے وقت ہی (مشروع) ہے۔“
”وتر کی نماز تو بس رات کے وقت ہی (مشروع) ہے۔“
«إنما الولاء لمن أعتق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ولاء (آزاد کردہ غلام کی وراثت کا حق) تو اسی کو ملتا ہے جو غلام کو آزاد کرے۔“
”ولاء (آزاد کردہ غلام کی وراثت کا حق) تو اسی کو ملتا ہے جو غلام کو آزاد کرے۔“
«إنما أمرت بالوضوء إذا قمت إلى الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تو وضو کرنے کا حکم صرف اسی وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوں۔“
”مجھے تو وضو کرنے کا حکم صرف اسی وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوں۔“
«إنما أنا بشر إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به وإذا أمرتكم بشيء من رأيي فإنما أنا بشر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو بس ایک انسان ہوں، جب میں تمہیں تمہارے دین سے متعلق کسی چیز کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے تھام لو، اور جب میں اپنی ذاتی رائے سے تمہیں کوئی بات کہوں تو (یاد رکھو کہ) میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔“
”میں تو بس ایک انسان ہوں، جب میں تمہیں تمہارے دین سے متعلق کسی چیز کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے تھام لو، اور جب میں اپنی ذاتی رائے سے تمہیں کوئی بات کہوں تو (یاد رکھو کہ) میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔“
«إنما أنا بشر أنسى كما تنسون فإذا نسي أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو محض ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔ پس جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے (سجدہ سہو) کر لے۔“
”میں تو محض ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔ پس جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے (سجدہ سہو) کر لے۔“
«إنما أنا بشر تدمع العين ويخشع القلب ولا نقول ما يسخط الرب والله يا إبراهيم إنا بك لمحزونون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو بس ایک انسان ہوں، آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے لیکن ہم زبان سے کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو ہمارے رب کو ناراض کر دے۔ اور اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر بہت غمگین ہیں۔“
”میں تو بس ایک انسان ہوں، آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے لیکن ہم زبان سے کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو ہمارے رب کو ناراض کر دے۔ اور اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر بہت غمگین ہیں۔“
«إنما أنا بشر مثلكم وإن الظن يخطئ ويصيب ولكن ما قلت لكم: قال الله فلن أكذب على الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہی ہوں، اور بے شک (انسانی) گمان غلط بھی ہوتا ہے اور صحیح بھی، لیکن جب میں تم سے کہوں کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، تو (یاد رکھو) میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔“
”میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہی ہوں، اور بے شک (انسانی) گمان غلط بھی ہوتا ہے اور صحیح بھی، لیکن جب میں تم سے کہوں کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، تو (یاد رکھو) میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔“
«إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي فلعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو ليتركها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو بس ایک انسان ہوں، اور تم اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان (اور ہوشیار) ہو، اور میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے میں نے کسی (دوسرے) مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دیا (جبکہ حقیقت میں وہ اس کا حق نہ ہو) تو درحقیقت وہ جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا ہے، اب وہ چاہے تو اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
”میں تو بس ایک انسان ہوں، اور تم اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان (اور ہوشیار) ہو، اور میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے میں نے کسی (دوسرے) مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دیا (جبکہ حقیقت میں وہ اس کا حق نہ ہو) تو درحقیقت وہ جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا ہے، اب وہ چاہے تو اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
«إنما أنا بشر وإني اشترطت على ربي عز وجل: أي عبد من المسلمين شتمته أو سببته أن يكون ذلك له زكاة وأجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو بس ایک انسان ہوں، اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ شرط (عہد) کر رکھی ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندے کو میں کوئی سخت بات کہہ دوں یا برا بھلا کہہ دوں تو وہ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر و ثواب کا باعث بن جائے۔“
”میں تو بس ایک انسان ہوں، اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ شرط (عہد) کر رکھی ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندے کو میں کوئی سخت بات کہہ دوں یا برا بھلا کہہ دوں تو وہ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر و ثواب کا باعث بن جائے۔“
«إنما أنا خازن وإنما يعطي الله فمن أعطيته عطاء عن طيب نفس مني فيبارك له فيه ومن أعطيته عطاء عن شره نفس وشدة مسألة فهو كالآكل يأكل ولا يشبع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو محض ایک خزانچی (تقسیم کرنے والا) ہوں اور حقیقت میں دینے والا تو صرف اللہ ہے۔ پس جسے میں خوش دلی سے کوئی عطیہ دوں تو اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور جسے میں اس کے لالچ اور حد سے زیادہ مانگنے کی وجہ سے دوں تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا (یعنی اسے اس مال میں برکت حاصل نہیں ہوتی)۔“
”میں تو محض ایک خزانچی (تقسیم کرنے والا) ہوں اور حقیقت میں دینے والا تو صرف اللہ ہے۔ پس جسے میں خوش دلی سے کوئی عطیہ دوں تو اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور جسے میں اس کے لالچ اور حد سے زیادہ مانگنے کی وجہ سے دوں تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا (یعنی اسے اس مال میں برکت حاصل نہیں ہوتی)۔“
«إنما أنا رحمة مهداة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تو سراپا رحمت ہوں جو (اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لیے) ہدیہ کر کے بھیجا گیا ہوں۔“
”میں تو سراپا رحمت ہوں جو (اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لیے) ہدیہ کر کے بھیجا گیا ہوں۔“
«إنما أنا لكم بمنزلة الوالد أعلمكم فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها ولا يستطب بيمينه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں تمہارے لیے باپ کے درجے میں ہوں کہ تمہیں دین (کے آداب) سکھاتا ہوں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی قضاءِ حاجت کے لیے جائے تو وہ نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرے اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرے، اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔“
”بے شک میں تمہارے لیے باپ کے درجے میں ہوں کہ تمہیں دین (کے آداب) سکھاتا ہوں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی قضاءِ حاجت کے لیے جائے تو وہ نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرے اور نہ اس کی طرف پیٹھ کرے، اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔“
«إنما أنا مبلغ والله يهدي وإنما أنا قاسم والله يعطي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حقیقت میں، میں تو صرف (اللہ کا پیغام) پہنچانے والا ہوں اور ہدایت اللہ ہی دیتا ہے، اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ عطا کرنے والا (حقیقی ذات) تو اللہ ہی ہے۔“
”حقیقت میں، میں تو صرف (اللہ کا پیغام) پہنچانے والا ہوں اور ہدایت اللہ ہی دیتا ہے، اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ عطا کرنے والا (حقیقی ذات) تو اللہ ہی ہے۔“
«إنما أهلك الذين من قبلكم أنهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے ہلاک کر دیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز (اور بااثر) شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے، اور جب کوئی کمزور (اور غریب) شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد نافذ کر دیتے تھے۔“
”تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے ہلاک کر دیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز (اور بااثر) شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے، اور جب کوئی کمزور (اور غریب) شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد نافذ کر دیتے تھے۔“
«إنما بعثت لأتمم صالح الأخلاق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تو بس اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔“
”مجھے تو بس اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔“
«إنما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، اور تم مشکل میں ڈالنے والے (سختی کرنے والے) بنا کر نہیں بھیجے گئے۔“
”بے شک تم (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، اور تم مشکل میں ڈالنے والے (سختی کرنے والے) بنا کر نہیں بھیجے گئے۔“
«إنما بعثني الله مبلغا ولم يبعثني متعنتا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے (احکام) پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اس نے مجھے (لوگوں کو) مشقت میں ڈالنے والا (یا خوامخواہ سختی کرنے والا) بنا کر نہیں بھیجا۔“
”یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے (احکام) پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اس نے مجھے (لوگوں کو) مشقت میں ڈالنے والا (یا خوامخواہ سختی کرنے والا) بنا کر نہیں بھیجا۔“
«إنما تفرقكم في الشعاب والأودية من الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا (دورانِ سفر خیمہ زن ہوتے وقت) گھاٹیوں اور وادیوں میں اس طرح الگ الگ بکھر جانا یقیناً شیطان کی طرف سے ہے۔“
”تمہارا (دورانِ سفر خیمہ زن ہوتے وقت) گھاٹیوں اور وادیوں میں اس طرح الگ الگ بکھر جانا یقیناً شیطان کی طرف سے ہے۔“
«إنما جزاء السلف الحمد والوفاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرض کا بہترین بدلہ تو بس (قرض دینے والے کی) تعریف کرنا اور (وقت پر خوش اسلوبی سے) ادائیگی کر دینا ہے۔“
”قرض کا بہترین بدلہ تو بس (قرض دینے والے کی) تعریف کرنا اور (وقت پر خوش اسلوبی سے) ادائیگی کر دینا ہے۔“
«إنما جعل الاستئذان من أجل البصر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(کسی کے گھر داخل ہونے سے قبل) اجازت مانگنے کا حکم تو دراصل نگاہ (کو ناجائز چیز دیکھنے سے بچانے) کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔“
”(کسی کے گھر داخل ہونے سے قبل) اجازت مانگنے کا حکم تو دراصل نگاہ (کو ناجائز چیز دیکھنے سے بچانے) کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔“
«إنما جعل الإمام جنة فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد فإذا وافق قول أهل الأرض قول أهل السماء غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو ایک ڈھال (کی مانند) بنایا گیا ہے، پس جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، پس (اس وقت) جب زمین والوں کی بات آسمان والوں (فرشتوں) کی بات کے موافق ہو جاتی ہے تو اس (مقتدی) کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
”امام تو ایک ڈھال (کی مانند) بنایا گیا ہے، پس جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، پس (اس وقت) جب زمین والوں کی بات آسمان والوں (فرشتوں) کی بات کے موافق ہو جاتی ہے تو اس (مقتدی) کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
«إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا صلى قائما فصلوا قياما وإن صلى جالسا فصلوا جلوسا ولا تقوموا وهو جالس كما يفعل أهل فارس بعظمائها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، اور تم اس حالت میں کھڑے نہ رہو کہ وہ بیٹھا ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے سرداروں کے ساتھ (تعظیماً) کرتے ہیں۔“
”امام تو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، اور تم اس حالت میں کھڑے نہ رہو کہ وہ بیٹھا ہو جیسا کہ اہل فارس اپنے سرداروں کے ساتھ (تعظیماً) کرتے ہیں۔“
…