حدیث نمبر: 2322
«إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن أمر بغيره فإن عليه وزرا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام (حکمران) تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے اور اس کے ذریعے (دشمن سے) بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل و انصاف کرے تو اس کے لیے اس (عمل) کا ثواب ہے، اور اگر وہ اس کے علاوہ (کوئی اور) حکم دے تو اس پر اس کا گناہ ہوگا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢٠٦.