حدیث نمبر: 2317
" إنما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها إنه لا يأتي الخير بالشر إن مما ينبت الربيع يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضر فإنها أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم رتعت وإن هذا المال خضرة حلوة ونعم صاحب المسلم هو لمن أعطاه المسكين واليتيم وابن السبيل فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه
بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر دنیا کی رونق اور اس کی چمک دمک کھول دی جائے گی (اور تم اس کی محبت میں پڑ جاؤ گے)۔ یقیناً بھلائی کے ساتھ برائی نہیں آتی۔ بے شک موسمِ بہار کی روئیدگی (کچی گھاس) میں سے بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جو (جانور کو) پیٹ پھلا کر ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب کر دیتی ہیں، سوائے اس جانور کے جو ہریالی کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کی طرف رخ کر لیتا ہے، پھر گوبر کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے اور پھر چرنے لگ جاتا ہے۔ اور بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے وہ مال کتنا ہی بہترین ساتھی ہے جو اسے مسکین، یتیم اور مسافر کو دے دے۔ پس جس نے اس (مال) کو اس کے حق (یعنی حلال طریقے) کے ساتھ لیا اور اسے اس کے حق (درست جگہ) پر خرچ کیا، تو وہ بہترین مددگار ہے۔ اور جس شخص نے اسے ناحق (حرام طریقے سے) حاصل کیا، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو رہتا ہے لیکن کبھی سیر نہیں ہوتا، اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہوگا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ٥٦٦.